نیٹ بلنگ فیصلہ عوام پر بم ہے، علی ظفر نے بجلی پالیسی پر سوال اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے نیٹ بلنگ سے متعلق اعلان کو بم قرار دیدیا۔پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ نیپرا عوام سے بجلی 11 روپے فی یونٹ میں خریدے گی لیکن حکومت عوام کو 40 روپے فی یونٹ میں فروخت کردے گی ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟انہوں نے کہا عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ سولر لگائیں آپ کو فائدہ دیں گے ، لوگوں نے قرض لے کر سولر پینل لگائے۔ لاکھوں روپے کے پینلز پر سرمایہ کاری کی۔اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ہم ہرگز عوام کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، حکومت جواب دے گی ہم کچھ نہیں کررہے اور نیپرا آزاد ادارہ ہے جس نے یہ سب کیا ہے۔پی ٹی آئی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ نیپرا آزاد نہیں ہے، نیپرا وہی پالیسی بناتی ہے جس کی حکومت ہدایت دیتی ہے، آئی پی پیز بے شک بجلی پیدا نہ بھی کرے تو انہیں پیسے دیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عوام پر بم ہے، نیپرا کے چیئرمین کو سینیٹ میں بلائیں، اگر نیپرا نے کوئی فیصلہ کیا اور حکومت کہے ہم بے بس ہیں تو حکومت قانون سازی کر لے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔