عروب جتوئی کے موبائل کا فرانزک کروانے کی استدعا منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سیشن کورٹ لاہور نے جوئے کی ایپ کی پروموشن کے مقدمے میں عروب جتوئی کے موبائل کا فرانزک کروانے کی استدعا منظور کر لی۔
ایڈیشنل سیشن جج منصور علی قریشی نے ملزم ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ عروب جتوئی کا موبائل فرانزک کروانا ہے جس کے لیے مہلت دی جائے۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کی استدعا کو منظور کر لیا۔
عدالت میں ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ موبائل فرانزک کی رپورٹ ایک دو ہفتوں میں نہیں آتی، رمضان کے بعد کی تاریخ دی جائے۔
اس پر عدالت نے ملزمہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 24 مارچ تک توسیع کر دی۔
جج منصور قریشی نے کہا کہ ملزمہ آئندہ اپنی حاضری یقینی بنائے، عبوری ضمانت میں حاضری معافی اب نہیں ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عروب جتوئی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔