کراچی:

سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں 342 ارب روپے منجمد ہونے سے ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں۔

اپنے بیان میں وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن سے اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد کی خرید و فروخت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور نئے نظام سے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں آن لائن سیل ڈیڈ کی تکمیل ممکن ہوگی۔

ان کا  مزید  کہنا تھا کہ سندھ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کو رجسٹریشن دفاتر میں ذاتی حاضری سے استثنا حاصل ہوگا جب کہ نادرا سے منسلک ای رجسٹریشن نظام کے ذریعے بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق ممکن ہوگی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی کاوشوں سے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پراپرٹی فراڈ کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ای اسٹیمپنگ نظام کو سندھ کے اپنے آئی ٹی ادارے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے سپرد کرنا صوبے کی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ 5 سالہ سروس معاہدہ 7 ملین روپے ماہانہ جب کہ سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ای اسٹیمپنگ نظام سے ریونیو وصولی کا نظام بہتر ہوگا جبکہ ای اسٹیمپنگ سے موبائل ایپ، پیپر لیس اسٹیمپ ڈیوٹی اور ٹو فیکٹر تصدیق جیسی جدید سہولیات سے شہریوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں جدید فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے قیام سے زرعی معیشت کو تقویت ملے گی ۔ اسی طرح لاڑکانہ میں 4.

8 ارب روپے کی لاگت سے جدید فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کا قیام زرعی معیشت کو مستحکم کرے گا۔

منصوبے میں کسانوں اور تاجروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے باؤنڈری وال، جدید ڈرینیج سسٹم، انتظامی بلاک، طبی سہولیات، بینکنگ سروسز اور گرین بیلٹ شامل ہوں گے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 342 ارب روپے 635 مقدمات میں بینک گارنٹیوں کی صورت میں منجمد ہیں جس سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ  مینٹی نینس آف انفرا اسٹرکچر سیس کے تنازع کے جامع تصفیے کی منظوری دی ہے جس کے تحت تسلیم شدہ واجبات کا 15 فیصد 3 مراحل میں ادا کیا جائے گا جب کہ باقی رقم 12 مساوی سالانہ اقساط میں وصول کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ری ایکسپورٹ پر مکمل استثنا دے کر تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکومت سندھ کے فیصلے کے تحت انڈس ڈیلٹا میں محفوظ مینگروز کے رقبے میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ضلع سجاول کی 405,002 ایکڑ انٹر ٹائیڈل زمین کو پروٹیکٹڈ فاریسٹ قرار دیا گیا ہے جو سمندری طوفانوں اور مدوجزر کی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق 25 فیصد جنگلاتی رقبہ ہونا چاہیے جب کہ سندھ میں اس وقت صرف 10 فیصد رقبہ محفوظ یا ریزروڈ فاریسٹ ہے۔ اس فیصلے سے انڈس ڈیلٹا میں پہلے سے محفوظ 566,298 ہیکٹر رقبے میں مزید اضافہ ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میمن نے کہا ارب روپے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن