مختلف مقدمات میں 342 ارب روپے منجمد ہونے سے ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں 342 ارب روپے منجمد ہونے سے ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں۔
اپنے بیان میں وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن سے اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد کی خرید و فروخت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور نئے نظام سے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں آن لائن سیل ڈیڈ کی تکمیل ممکن ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کو رجسٹریشن دفاتر میں ذاتی حاضری سے استثنا حاصل ہوگا جب کہ نادرا سے منسلک ای رجسٹریشن نظام کے ذریعے بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق ممکن ہوگی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی کاوشوں سے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پراپرٹی فراڈ کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ای اسٹیمپنگ نظام کو سندھ کے اپنے آئی ٹی ادارے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے سپرد کرنا صوبے کی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ 5 سالہ سروس معاہدہ 7 ملین روپے ماہانہ جب کہ سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ای اسٹیمپنگ نظام سے ریونیو وصولی کا نظام بہتر ہوگا جبکہ ای اسٹیمپنگ سے موبائل ایپ، پیپر لیس اسٹیمپ ڈیوٹی اور ٹو فیکٹر تصدیق جیسی جدید سہولیات سے شہریوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں جدید فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے قیام سے زرعی معیشت کو تقویت ملے گی ۔ اسی طرح لاڑکانہ میں 4.
منصوبے میں کسانوں اور تاجروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے باؤنڈری وال، جدید ڈرینیج سسٹم، انتظامی بلاک، طبی سہولیات، بینکنگ سروسز اور گرین بیلٹ شامل ہوں گے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 342 ارب روپے 635 مقدمات میں بینک گارنٹیوں کی صورت میں منجمد ہیں جس سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹی نینس آف انفرا اسٹرکچر سیس کے تنازع کے جامع تصفیے کی منظوری دی ہے جس کے تحت تسلیم شدہ واجبات کا 15 فیصد 3 مراحل میں ادا کیا جائے گا جب کہ باقی رقم 12 مساوی سالانہ اقساط میں وصول کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ری ایکسپورٹ پر مکمل استثنا دے کر تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکومت سندھ کے فیصلے کے تحت انڈس ڈیلٹا میں محفوظ مینگروز کے رقبے میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ضلع سجاول کی 405,002 ایکڑ انٹر ٹائیڈل زمین کو پروٹیکٹڈ فاریسٹ قرار دیا گیا ہے جو سمندری طوفانوں اور مدوجزر کی لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق 25 فیصد جنگلاتی رقبہ ہونا چاہیے جب کہ سندھ میں اس وقت صرف 10 فیصد رقبہ محفوظ یا ریزروڈ فاریسٹ ہے۔ اس فیصلے سے انڈس ڈیلٹا میں پہلے سے محفوظ 566,298 ہیکٹر رقبے میں مزید اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میمن نے کہا ارب روپے
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔