سانحہ ترلائی اسلام آباد کی شدید مذمت، الزہرا انٹرنیشنل قرآنک انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب کامیابی سے منعقد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سانحہ ترلائی اسلام آباد کی شدید مذمت، الزہرا انٹرنیشنل قرآنک انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب کامیابی سے منعقد WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد( )الزہرا انٹرنیشنل قرآنک اینڈ ماڈرن سائنسز انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب نہایت وقار، دینی جذبے اور فکری شعور کے ساتھ کامیابی سے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میںصاحبزادہ پروفیسر قاری محمد مشتاق انور،پیر سید محمد ناصر علی شاہ، صاحبزادہ سعید الرشید عباسی، قاری محمد عمیر آصف، ڈاکٹر محمد شیر سیالوی، ڈاکٹر عبدالحمید چشتی، چوہدری محمد یسین، قاری محمد ذیشان حیدر، قاری محمد فاروق الازہری ، پیر سید قاسم شاہ سیالوی، سید ذیشان بخاری، ڈاکٹر اختر علی چشتی نے خطاب کیا و دیگر کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ پروفیسرقاری محمد مشتاق انور نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال پر سنجیدہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آنے والے افسوسناک خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس المناک واقعے کو انسانیت، اسلام اور پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔آپ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مؤثر مقابلہ صرف اتحاد، فکری بیداری اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےامتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ عالمی چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور فلسطین کی حالیہ صورتحال پر مظلوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور عالمی طاقتوں کی جانب سے جاری ظلم و جبر کی شدید مذمت کی۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت، داخلی اختلافات اور فکری انتشار سے نکل کر مشترکہ اسلامی اقدار، باہمی احترام اور اتحاد کی راہ اپنانا ہوگی۔
اس موقع پر جاری اعلامیے کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں امن و امان کے قیام، دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں اوروہ عالمی سطح پر مظلوم مسلمانوں، بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر واضح، جرات مندانہ اور اصولی موقف اختیار کریں۔
شرکاء نے الزہرا انٹرنیشنل قرآنک اینڈ ماڈرن سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے قیام کو دینی، فکری اور اخلاقی تربیت کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قرآنِ کریم کی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، تاکہ ایک باکردار، باشعور اور متحد اسلامی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، عزت اور نصرت سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے افسران کیلئے وردی پہننا لازمی، ڈی جی کا بڑا حکم جاری،تفصیلات سب نیوز پر ایف آئی اے افسران کیلئے وردی پہننا لازمی، ڈی جی کا بڑا حکم جاری،تفصیلات سب نیوز پر قازقستان کے سفیر کی وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے ملاقات،ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق فیشن ڈیزائننگ یونیورسٹی میں بڑا سکینڈل؟ سینیٹ قائمہ کمیٹی کا سخت ایکشن پاک فوج کی کس صوبےمیں کتنی نمائندگی ہے ؟تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر کس صوبے سے کتنے فوجی شہید ہوئے؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اعدادوشمار پیش کردیے پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الزہرا انٹرنیشنل قرا نک اسلام ا باد انسٹی ٹیوٹ کی شدید
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔