جوڈیشل کمیشن اجلاس: ججوں کے انٹرویوز قواعد اور بلوچستان ہائیکورٹ کی تقرریاں مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان و چیئرپرسن جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی زیرِ صدارت سپریم کورٹ آف پاکستان کے کانفرنس روم میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے مختلف اجلاس منعقد ہوئے۔
مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام، نوٹیفکیشن جاری
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (کور کمیشن) کے پہلے اجلاس میں ججوں کی تقرری کے وقت امیدواروں کے انٹرویوز سے متعلق قواعد و ضوابط کے مجوزہ فریم ورک پر غور کیا گیا۔ ابتدائی بحث کے بعد کمیشن نے ایجنڈا مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اراکین مجوزہ ضابطہ جاتی خدوخال کا مزید گہرائی سے جائزہ لے سکیں۔
بعد ازاں اسی مقام پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (ہائیکورٹ بلوچستان) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری سے 2 ایڈیشنل ججوں کی تقرری پر غور کیا جانا تھا۔ تاہم بلوچستان بار کونسل کے نمائندے کی نامزدگی سے متعلق ایک آئینی سوال سامنے آنے پر معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:چیئرمین پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت بانی سے ملاقات سے مشروط کر دی
کمیشن کے اراکین نے اس معاملے پر مزید پیشرفت سے قبل اس کے جامع اور تفصیلی جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ججوں کی تقرری جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ آف پاکستان ہائیکورٹ بلوچستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ججوں کی تقرری جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ آف پاکستان ہائیکورٹ بلوچستان جوڈیشل کمیشن آف پاکستان
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔