اسلام آباد(ارسلان لون)اسلامی ممالک کی تنظیم او آئ سی کی سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت (ایس ٹی آئی) ایجنڈا 2026 پر عملدرآمد کے جائزے کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کا ساتواں اجلاس بدھ کو او آئی سی کامسٹیک کے سیکریٹریٹ میں شروع ہوگیا۔ دو روزہ اجلاس میں او آئی سی کے اہم اداروں کے نمائندے شریک ہیں، جو پیش رفت کا جائزہ لینے، درپیش چیلنجز پر غور کرنے اور حتمی مرحلے کے لیے سفارشات مرتب کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 پر عملدرآمد کی مجموعی پیش رفت اور ترجیحی شعبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور جدت کو پائیدار ترقی اور سماجی و معاشی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2017ء میں آستانہ میں منعقدہ پہلے او آئی سی سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس میں اس ایجنڈے کی منظوری کے بعد رکن ممالک کے درمیان تعاون، قومی اقدامات میں ہم آہنگی اور علم پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کیا گیا۔اپریل 2025ء میں منعقدہ چھٹے اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافہ، تحقیقی اشتراک، جدت کی سرپرستی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم وسائل کی کمی اور عملدرآمد کی غیر مساوی صلاحیتیں اب بھی چیلنج ہیں۔ انہوں نے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مشترکہ پروگرامنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (سائنس و ٹیکنالوجی) آفتاب احمد کھوکھر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت رکن ممالک میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور تکنیکی خود انحصاری کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 تحقیقاتی تعاون، علم کے تبادلے اور جدت پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے ایک جامع اور مستقبل نگر حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مؤثر نگرانی کے نظام، سیاسی عزم کے تسلسل اور وسائل کی فراہمی کو ایجنڈے کی کامیاب تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کامسٹیک کے رابطہ کار کردار کو سراہا۔اجلاس کے ایجنڈے میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ، درپیش مشکلات کا تجزیہ، اپریل 2025ء کے بعد کیے گئے اقدامات پر ادارہ جاتی بریفنگز اور ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 کی حتمی رپورٹ کے لیے سفارشات کی تیاری شامل ہے۔اجلاس میں کامسٹیک، کامسیک، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک گروپ، اسلامک آرگنائزیشن برائے فوڈ سکیورٹی، آئیسیسکو، سیسریک، اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز، اسٹینڈرڈز و میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامک ممالک، اسلامک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اسلامک یونیورسٹی یوگنڈا، کنگ فیصل یونیورسٹی (چاڈ)، ترکک اکیڈمی اور او آئی سی نیوز ایجنسیز یونین کے نمائندگان اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔یہ اسٹیئرنگ کمیٹی آستانہ اعلامیے اور ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 کی ترجیح نمبر 12 کے تحت قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد ایجنڈے پر عملدرآمد کی نگرانی اور مؤثر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔ کامسٹیک اس کمیٹی کا نامزد سیکریٹریٹ ہے اور رکن ممالک و اداروں کے درمیان رابطہ کاری انجام دیتا ہے۔ اجلاس کی سفارشات او آئی سی خطے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایس ٹی ا ئی ایجنڈا 2026 او ا ئی سی انہوں نے پیش رفت اور جدت کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف