آئی سی او اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس کامسٹیک سیکریٹریٹ میں شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ارسلان لون)اسلامی ممالک کی تنظیم او آئ سی کی سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت (ایس ٹی آئی) ایجنڈا 2026 پر عملدرآمد کے جائزے کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کا ساتواں اجلاس بدھ کو او آئی سی کامسٹیک کے سیکریٹریٹ میں شروع ہوگیا۔ دو روزہ اجلاس میں او آئی سی کے اہم اداروں کے نمائندے شریک ہیں، جو پیش رفت کا جائزہ لینے، درپیش چیلنجز پر غور کرنے اور حتمی مرحلے کے لیے سفارشات مرتب کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 پر عملدرآمد کی مجموعی پیش رفت اور ترجیحی شعبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور جدت کو پائیدار ترقی اور سماجی و معاشی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2017ء میں آستانہ میں منعقدہ پہلے او آئی سی سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس میں اس ایجنڈے کی منظوری کے بعد رکن ممالک کے درمیان تعاون، قومی اقدامات میں ہم آہنگی اور علم پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کیا گیا۔اپریل 2025ء میں منعقدہ چھٹے اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافہ، تحقیقی اشتراک، جدت کی سرپرستی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم وسائل کی کمی اور عملدرآمد کی غیر مساوی صلاحیتیں اب بھی چیلنج ہیں۔ انہوں نے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مشترکہ پروگرامنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (سائنس و ٹیکنالوجی) آفتاب احمد کھوکھر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت رکن ممالک میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور تکنیکی خود انحصاری کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 تحقیقاتی تعاون، علم کے تبادلے اور جدت پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے ایک جامع اور مستقبل نگر حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مؤثر نگرانی کے نظام، سیاسی عزم کے تسلسل اور وسائل کی فراہمی کو ایجنڈے کی کامیاب تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کامسٹیک کے رابطہ کار کردار کو سراہا۔اجلاس کے ایجنڈے میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ، درپیش مشکلات کا تجزیہ، اپریل 2025ء کے بعد کیے گئے اقدامات پر ادارہ جاتی بریفنگز اور ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 کی حتمی رپورٹ کے لیے سفارشات کی تیاری شامل ہے۔اجلاس میں کامسٹیک، کامسیک، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک گروپ، اسلامک آرگنائزیشن برائے فوڈ سکیورٹی، آئیسیسکو، سیسریک، اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز، اسٹینڈرڈز و میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامک ممالک، اسلامک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اسلامک یونیورسٹی یوگنڈا، کنگ فیصل یونیورسٹی (چاڈ)، ترکک اکیڈمی اور او آئی سی نیوز ایجنسیز یونین کے نمائندگان اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔یہ اسٹیئرنگ کمیٹی آستانہ اعلامیے اور ایس ٹی آئی ایجنڈا 2026 کی ترجیح نمبر 12 کے تحت قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد ایجنڈے پر عملدرآمد کی نگرانی اور مؤثر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔ کامسٹیک اس کمیٹی کا نامزد سیکریٹریٹ ہے اور رکن ممالک و اداروں کے درمیان رابطہ کاری انجام دیتا ہے۔ اجلاس کی سفارشات او آئی سی خطے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس ٹی ا ئی ایجنڈا 2026 او ا ئی سی انہوں نے پیش رفت اور جدت کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔