نادرا کا ڈیجیٹل شناختی نظام میں بڑا قدم، ’’نشانِ پاکستان‘ سروس متعارف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی تصدیق کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ’نشان پاکستان‘ کے نام سے ایک نئی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرائی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف شہریوں کی شناخت کی محفوظ تصدیق کو یقینی بنانا ہے بلکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کو بھی تقویت دینا ہے۔
ترجمان نادرا کے مطابق ادارہ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 7 کے تحت قومی ڈیٹا بیس کی تیاری اور اس سے متعلق خدمات فراہم کرنے کا مجاز ہے۔ اسی قانونی دائرہ کار اور نادرا (ڈیٹا شیئرنگ) ریگولیشنز 2025 اور نادرا (آئیڈنٹیٹی ویریفکیشن) ریگولیشنز 2026 کے تحت ’نشان پاکستان‘ ویب پورٹل کا اجرا کیا گیا ہے۔
اس پورٹل کے ذریعے سرکاری محکموں اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کو ایک جامع آن لائن پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ رجسٹریشن، سبسکرپشن اور رسائی سمیت تمام مراحل مکمل کر سکتے ہیں۔
ماضی میں شناختی تصدیق کے عمل میں متعدد پیچیدہ مراحل شامل ہوتے تھے اور اداروں کو طویل دستاویزی کارروائی سے گزرنا پڑتا تھا، جس سے تاخیر اور شفافیت کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ نئی سروس کے تحت یہ تمام عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور مربوط بنا دیا گیا ہے، جس سے وقت کی بچت اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
نشان پاکستان کے ذریعے بینک، مائیکروفنانس بینک، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز، نان بینکنگ فنانشل ادارے اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں نادرا کی مختلف ویریفکیشن سروسز تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گی۔ رجسٹرڈ اداروں کو ملٹی بائیومیٹرک ویریفکیشن اے پی آئی، پروف آف لائف اے پی آئی اور سنگل سائن آن جیسی جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔
اعلامیے کے مطابق یہ قدم ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (DEEP) کے تحت اٹھایا گیا ہے اور مالی شمولیت و ای گورننس کی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کا ڈیجیٹل نظام پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گیا ہے کے تحت
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔