برطانیہ میں بچی سے زیادتی کا مقدمہ، افغان شہری مجرم قرار
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
برطانیہ کے شہر نون ایٹن میں 12 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں ایک افغان شہری کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ ملزم کو 13 سال سے کم عمر بچی کے ساتھ دو بار جنسی زیادتی کے الزامات میں قصوروار پایا گیا۔ ملزم نے بچی کو اغوا کرنے، 2 بار جنسی ہراسانی کرنے اور غیر اخلاقی تصاویر بنانے کے الزامات میں اقرار جرم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مقیم 5 ہزار سے زیادہ افغان قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار، دہشتگردی اور جنسی جرائم میں ملوث افرادکی ملک بدری کا فیصلہ
شریک ملزم، 24 سالہ ایک اور شخص کو بچی کو اغوا کرنے، جنسی جرم کرنے کی نیت اور جان بوجھ کر گلا دبانے کے الزامات میں بری کردیا گیا۔
اس مقدمے نے برطانیہ میں پناہ گزینوں کے خلاف تناؤ کو بڑھایا ہے، بعض گروہوں نے پناہ گزینوں کے دیگر جرائم کو بنیاد بنا کر انہیں مقامی کمیونٹی کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ حمایت کرنے والے گروہ کہتے ہیں کہ کچھ سیاسی عناصر اس معاملے کو اپنے مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مخالف بیان پر افغان شہری گرفتار، ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ
مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے متاثرہ بچی کو ایک سنسان جگہ پر لے جا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی، جنسی ہراسانی کی اور غیر اخلاقی تصاویر بنائیں، ملزم کی سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغان شہری بچی برطانیہ پناہ گزین جنسی زیادہ مجرم قرار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان شہری بچی برطانیہ پناہ گزین جنسی زیادہ افغان شہری کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔