مودی حکومت کا "بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ" چوری اور سفارت کاری کی ناکامی کا ثبوت ہے، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کانگریس کے سینیئر لیڈر نے اپنے بیان میں اس معاہدے کو ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیا اور نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اس معاہدے کو ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ متعدد آزاد تجزیہ کاروں اور مبصرین، جنہیں مودی مخالف نہیں سمجھا جاتا، نے بھی اس تجارتی معاہدے کو غیر متوازن اور یک طرفہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیل میں ہندوستان نے جتنا حاصل کیا ہے، اس کے مقابلے میں امریکہ نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔
کانگریس لیڈر نے وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات کے عوامی اظہار کے باوجود ہندوستان کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر قربت دکھانے اور سفارتی محاذ پر سرگرمیوں کے باوجود معاہدے کی شرائط ہندوستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوئیں۔
جے رام رمیش نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس تجارتی معاہدے کو "چوری" قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت کی سفارت کاری کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت چاہے جتنا بھی وضاحتی بیانیہ پیش کرے، حقیقت یہی ہے کہ اس معاہدے میں ہندوستان کو نقصان پہنچا ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے تاکہ اس پر کھل کر بحث ہو سکے اور ملک کے مفادات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اس معاہدے معاہدے کو قرار دیا کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔