خلیجی ممالک پاکستانی بھکاریوں‘ چوروں‘ جعلسازوں کیلیے جنت‘ 38 ہزار ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-28
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) خلیجی ممالک پاکستانی بھکاریوں، چوروں، جعل سازوں کے لیے جنت بن گئے، کس ملک سے کتنے پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ملک کو بدنام کرنے والے 38 ہزار سے زاید پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، سعودی عرب سے سب سے زیادہ 27692 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے۔متحدہ عرب امارات سے 6794، عمان سے 2537، بحرین سے 786 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، قطر سے 644 اور کویت سے 163 پاکستانیوں کو نکالا گیا۔ بھیک مانگنے پر 780 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، سعودی عرب سے سب سے زیادہ 767، یو اے ای سے 10، قطر سے دو اورعمان سے ایک بھکاری ڈی پورٹ ہوا۔منشیات میں ملوث 1 ہزار 25، چوری چکاری میں 109 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ غیر قانونی داخلے پر 4872 پاکستانیوں کو خلیجی ممالک سے ملک بدر کیا گیا جبکہ گمشدہ پاسپورٹ ہونے پر 1933، بلیک لسٹ ہونے پر 1639 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے پاکستانیوں کو
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔