نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026،سولر سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے نیپرا کی مجوزہ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونٹ فار یونٹ نظام کے خاتمے اور نیٹ بلنگ سسٹم کے نفاذ سے گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا جبکہ سولر توانائی میں کی گئی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ پالیسی کے تحت موجودہ یونٹ فار یونٹ سسٹم ختم کرکے نیٹ بلنگ متعارف کرائی جارہی ہے جس کے مطابق صارفین کو اضافی پیدا کردہ بجلی کے عوض تقریباً 11 روپے فی یونٹ ادائیگی کی جائے گی جبکہ وہی صارفین گرڈ سے بجلی تقریباً 50 روپے فی یونٹ تک خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ خرید و فروخت کے نرخوں میں اس واضح فرق کے باعث سولر صارفین کو مالی نقصان ہوگا اور سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت مزید طویل ہو جائے گی۔ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ سابقہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف ایک یونٹ بجلی گرڈ کو فراہم کرتا تھا تو اسے ایک یونٹ کی براہ راست ایڈجسٹمنٹ کا فائدہ ملتا تھا تاہم نیٹ بلنگ کے تحت 30 دن بعد مالی بنیادوں پر حساب ہوگا جس میں نرخوں کا فرق صارفین کے لیے نقصان دہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے اپنی جمع پونجی یا بینک قرضوں سے سولر سسٹم نصب کرنے والے گھریلو صارفین شدید متاثر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کمرشل شعبے اور تاجر برادری کے لیے یہ فیصلہ دوہرا دھچکا ثابت ہوگا۔ ایک طرف مہنگی بجلی خریدنا پڑے گی اور دوسری جانب اضافی بجلی کم نرخ پر فروخت ہوگی، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ اس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔صنعتی شعبے کے حوالے سے انہوں نے خبردار کیا کہ صنعتوں نے توانائی لاگت کم کرنے اور برآمدات میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اربوں روپے سولر سسٹمز پر خرچ کیے ہیں۔ نئی ریگولیشنز کے نتیجے میں صنعتی پیداواری لاگت بڑھے گی، برآمدات متاثر ہوں گی اور ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پہلے سے نصب شدہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو محدود مدت کے لیے تحفظ دیا گیا ہے تاہم پالیسی میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرے گی۔ نیپرا کو خریداری قیمت میں ردوبدل اور سہ ماہی بنیادوں پر جائزے کے اختیارات دینے سے پالیسی کا تسلسل متاثر ہوگا اور قابل تجدید توانائی میں نئی سرمایہ کاری رکنے کا خدشہ ہے۔ثاقب فیاض مگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فیصلہ فوری واپس لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً صنعت و تجارت کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ایسی پالیسی مرتب کی جائے جو عوام اور معیشت دونوں کے مفاد میں ہو، تاکہ صارفین کو ممکنہ اربوں روپے کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری اربوں روپے صارفین کو انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔