پاک افغان سرحدی بندش پر عالمی جریدے کی تائید
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( آن لائن) پاک افغان سرحد کی حالیہ بندش کے معاملے پر ایک عالمی جریدے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اسے سیکورٹی کے نقطہ نظر سے مناسب اقدام قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور سرحد پار حملوں کے تناظر میں پاکستان کا فیصلہ قومی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ عالمی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان کیلیے افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام صرف کسٹمز یا تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ قومی بقا اور سلامتی سے جڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جن میں سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔جریدے کے مطابق ایسے حالات میں سرحدی راستوں کی بندش پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ کیلیے ایک اسٹریٹجک اور دفاعی قدم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی ہے۔ جب تک سرحد پار حملوں اور عسکریت پسند عناصر کی سرگرمیوں کا تدارک نہیں ہوتا، اعتماد کی فضا بحال ہونا مشکل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔