Al Qamar Online:
2026-07-24@03:58:48 GMT

09 فروری 2026ءاسٹیٹ بینک نے زری پالیسی رپورٹ جاری کردی

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

بینک دولت پاکستان نے آج اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کردی۔ اس اجرا کا مقصد بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنے ابلاغ کو بہتر بنانا اور زری پالیسی کے فیصلہ سازی کے عمل میں مزید شفافیت لانا ہے۔ رپورٹ میں اُس مائیکرو اکنامک پیش رفت اور منظرنامے کا جائزہ لیا گیا ہے جس نے اگست 2025 ء کی زری پالیسی رپورٹ کی اشاعت کے بعد زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی رہنمائی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ میکرو اکنامک حالات اور منظرنامے میں بہتری آئی ہے، جس کی معاونت محتاط زری پالیسی رویے اور جاری مالیاتی یکجائی نے کی ہے۔ توقع ہے کہ مہنگائی مالی سال 26 ء اور مالی سال 27 ء کے بیشتر عرصے کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رہے گی، اگرچہ کچھ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ مالی سال 26 ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس میں تجارتی خسارہ بلند ہوگا جو کارکنوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا ہونے کی توقع ہے۔اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026 ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور مالی سال 27 ء میں مزید بڑھ کر تقریباً تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ جائیں گے۔ جاری میکرو اکنامک استحکام، مالی صورتِ حال میں نرمی، اور مطلوبہ نقدِ محفوظ (سی آر آر) کو حال ہی میں 5 فیصد تک کم کرنے کے دوران معاشی سرگرمی بھی مضبوط ہوئی ہے۔ چنانچہ معاشی نمو کے امکانات بہتر ہوگئے ہیں، اور جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 26ء کے لیے اب 3.

75 سے 4.75 فیصد کے درمیان متوقع ہے، جبکہ مالی سال 27ء میں نمو مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

رپورٹ معاشی منظرنامے کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات پر بھی متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ سیلابوں کے وسیع اثرات کا خطرہ کم ہو گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر ٹیرف سے متعلق پیش رفت کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی موجود ہے۔ ملکی سطح پر، ہدف سے کم محصولات کی وصولی اور ممکنہ منفی موسمیاتی حالات کے اثرات مہنگائی، بیرونی کھاتے اور جی ڈی پی کی نمو کے منظرناموں کے لیے کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں منفی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی لچک کو بڑھانے، پیداواریت کو بہتر بنانے اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے ساختی اصلاحات پر عمل درآمد تیز کرنا اہم ہے۔

زری پالیسی رپورٹ میں چار باکس بھی شامل ہیں جن میں زری پالیسی سے متعلق اہم میکرو اکنامک تصورات پر بحث کی گئی ہے۔ ایک باکس میں جون 2024ء سے پالیسی ریٹ میں بڑے پیمانے پر کمی اور 6 سے 8 سہ ماہیوں کے ترسیلی وقفے کے پیش نظر زری پالیسی کی ترسیلی میکانزم کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔ دوسرا باکس حرارتی نقشے کے استعمال کی وضاحت میں ہے۔ یہ اقتصادی سرگرمی کی سطح کو متبادل آلے کے طور پر ناپنے کے لیے مختلف شعبوں میں متعدد اظہاریوں سے حاصل کردہ اشاروں کو ایک تصویری خاکے میں یکجا کرتا ہے۔ اگلے دو باکس اسٹیٹ بینک کے سروے اور دیگر اہم اقتصادی اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ اس کے منضبط مکالمے (structured interactions) کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں جن کا مقصد ڈیٹا پر مبنی زری پالیسی کی تشکیل کو پورا کرنا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل زری پالیسی رپورٹ کی توقع ہے مالی سال کے لیے

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق