09 فروری 2026ءاسٹیٹ بینک نے زری پالیسی رپورٹ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
بینک دولت پاکستان نے آج اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کردی۔ اس اجرا کا مقصد بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنے ابلاغ کو بہتر بنانا اور زری پالیسی کے فیصلہ سازی کے عمل میں مزید شفافیت لانا ہے۔ رپورٹ میں اُس مائیکرو اکنامک پیش رفت اور منظرنامے کا جائزہ لیا گیا ہے جس نے اگست 2025 ء کی زری پالیسی رپورٹ کی اشاعت کے بعد زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی رہنمائی کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ میکرو اکنامک حالات اور منظرنامے میں بہتری آئی ہے، جس کی معاونت محتاط زری پالیسی رویے اور جاری مالیاتی یکجائی نے کی ہے۔ توقع ہے کہ مہنگائی مالی سال 26 ء اور مالی سال 27 ء کے بیشتر عرصے کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رہے گی، اگرچہ کچھ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ مالی سال 26 ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس میں تجارتی خسارہ بلند ہوگا جو کارکنوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا ہونے کی توقع ہے۔اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026 ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور مالی سال 27 ء میں مزید بڑھ کر تقریباً تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ جائیں گے۔ جاری میکرو اکنامک استحکام، مالی صورتِ حال میں نرمی، اور مطلوبہ نقدِ محفوظ (سی آر آر) کو حال ہی میں 5 فیصد تک کم کرنے کے دوران معاشی سرگرمی بھی مضبوط ہوئی ہے۔ چنانچہ معاشی نمو کے امکانات بہتر ہوگئے ہیں، اور جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 26ء کے لیے اب 3.
رپورٹ معاشی منظرنامے کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات پر بھی متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ سیلابوں کے وسیع اثرات کا خطرہ کم ہو گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر ٹیرف سے متعلق پیش رفت کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی موجود ہے۔ ملکی سطح پر، ہدف سے کم محصولات کی وصولی اور ممکنہ منفی موسمیاتی حالات کے اثرات مہنگائی، بیرونی کھاتے اور جی ڈی پی کی نمو کے منظرناموں کے لیے کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں منفی دھچکوں کے مقابلے میں معیشت کی لچک کو بڑھانے، پیداواریت کو بہتر بنانے اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے ساختی اصلاحات پر عمل درآمد تیز کرنا اہم ہے۔
زری پالیسی رپورٹ میں چار باکس بھی شامل ہیں جن میں زری پالیسی سے متعلق اہم میکرو اکنامک تصورات پر بحث کی گئی ہے۔ ایک باکس میں جون 2024ء سے پالیسی ریٹ میں بڑے پیمانے پر کمی اور 6 سے 8 سہ ماہیوں کے ترسیلی وقفے کے پیش نظر زری پالیسی کی ترسیلی میکانزم کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔ دوسرا باکس حرارتی نقشے کے استعمال کی وضاحت میں ہے۔ یہ اقتصادی سرگرمی کی سطح کو متبادل آلے کے طور پر ناپنے کے لیے مختلف شعبوں میں متعدد اظہاریوں سے حاصل کردہ اشاروں کو ایک تصویری خاکے میں یکجا کرتا ہے۔ اگلے دو باکس اسٹیٹ بینک کے سروے اور دیگر اہم اقتصادی اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ اس کے منضبط مکالمے (structured interactions) کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں جن کا مقصد ڈیٹا پر مبنی زری پالیسی کی تشکیل کو پورا کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل زری پالیسی رپورٹ کی توقع ہے مالی سال کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔