پنجاب میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم، خصوصی بچوں کے لیے عالمی معیار کی سہولتیں میسر: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال قبل جہاں خالی زمین تھی، آج وہاں عالمی معیار کا آٹزم سینٹر قائم ہو چکا ہے، جسے دیکھ کر دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے سرکاری آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج، تعلیم اور بحالی کی تمام جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید دنیا بھر میں بھی آٹسٹک بچوں کے لیے اس نوعیت کی جامع سہولتیں ایک ہی جگہ دستیاب نہ ہوں۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کون سی نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا؟
مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد خصوصی بچوں کا علاج اور سرجری کرکے انہیں نارمل زندگی کی طرف لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست آٹسٹک بچوں اور ان کے والدین کا بوجھ بانٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ 90 فیصد نادار طبقہ اپنے بچوں کا مہنگا علاج خود نہیں کرا سکتا۔
وزیراعلیٰ نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بھانجی کے بیٹے ابراہیم کو ڈھائی سال کی عمر میں آٹزم تشخیص ہوا، جس کے بعد خاندان نے اس کیفیت کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ آٹسٹک بچوں کے والدین غیر معمولی صبر اور حوصلے کے ساتھ روزمرہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور ریاست کا فرض ہے کہ ان کی مدد کرے۔
انہوں نے کہا کہ آٹزم سینٹر میں اسپیچ تھراپی، میوزک تھراپی، آرٹ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، ساؤنڈ پروف اسپیکنگ روم، اوپن ایئر جم اور خصوصی ٹیکسچرڈ فرش جیسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ بچوں کو مختلف تھراپی کے ذریعے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا سکھایا جائے گا۔
مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ آٹسٹک بچوں کی سہولتوں کو ہر ضلع کی سطح تک وسعت دی جائے گی، خصوصی اساتذہ کی تربیت اور والدین کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں خصوصی بچوں کے لیے 70 خصوصی بسیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا کی ملاقات
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی بنیاد ہے۔ تقریب میں سینئر منسٹر مریم اورنگزیب، صوبائی وزرا اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اس ادارے کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا اور آٹسٹک بچوں کے والدین کو یقین دلایا کہ ریاست ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹزم سینٹر مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف پنجاب مریم نواز شریف مریم نواز شریف نے انہوں نے کہا کہ آٹسٹک بچوں کے کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔