عمران خان باہر نہیں آ رہے، سہیل وڑائچ کا دعوٰی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان فی الحال جیل سے باہر نہیں آرہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنازعات کا شکار سہیل وڑائچ بنے ’وی ٹو‘ کے مہمان، دلچسپ انٹرویو
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوص انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف مان جائے تو اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس عمران خان کے لیے کوئی راہ نکال سکتے ہیں لیکن ان کے باہر نکلنے کا ابھی کوئی چانس نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس دونوں بڑی اعتدال پسند رہنما ہیں، پی ٹی آئی کو اعتدال اور عقل کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس عمران خان کے لیے کوئی راہ نکال سکتے ہیں، دونوں رہنماؤں کا کافی تجربہ ہے مگر پاکستان تحریک انصاف ایک ضد پر کھڑی ہے، عمران خان کے سپورٹر یہ چاہتے کہ وہ ڈٹے رہیں اور وہ جیل میں ہی رہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ابھی عمران خان جیل سے باہر آئیں گے۔
مزید پڑھیے: ڈی جی آئی ایس پی آر نے جن نکات کی تردید کی وہ میرے کالم میں موجود نہیں تھے، صحافی سہیل وڑائچ کی وضاحت
انہوں نے کہا کہ اب کوئی ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں مجھے اسکا کوئی علم نہیں، ڈیل ایک ہی ہو سکتی ہے کہ عمران خان چپ کر کے بیٹھ جائیں سیاست نہ کریں، احتجاج ،دھرنے نہ دیں اور حکومت اور سٹم کو مان لیں، خان اس پر مانتے نہیں ہیں اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
عمران پر کیسز لڑائی کی وجہ سے ہیںایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر کیسز اس وجہ سے ہیں کہ وہ لڑائی کر رہے ہیں، اسی لڑائی کی وجہ سے وہ جیل میں ہیں ۔اگر سیاسی مفاہمت ہوجاتی ہے تو یہ تمام کیسز ختم ہو جائیں گے، ہم نے پہلے بھی دیکھا جب سیاسی مفاہمت ہوتی ہے تو بڑے بڑے کیسز ختم ہو جاتے ہیں۔ میں تو کہہ رہا ہوں عمران خان پر جو کیسز بنائے گئے ہیں وہ سب غلط ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز قبولیت کی وجہ سے اقتدار میں آئی ہیںسینیئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ میں یہ جانچ سکوں کہ کسی کی مقبولیت ہے اور کسی کی قبولیت ہے، الیکشن ہوں تب پتا چلے گا کہ کون مقبول ہے، پیپلزپارٹی ابھی پنجاب میں بہت کمزور ہے، مریم نواز کے پاس موقع ہے ابھی دیکھتے ہیں وہ اس موقعے سے کیسے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ ہی میرا تھیسز ہے کہ پاکستان میں کوئی لیڈر قبولیت کے بغیر اقتدار میں نہیں آیا،عمران خان بھی 2018 میں قبولیت کی وجہ سے اقتدار میں آئے۔ مریم نواز بھی قبولیت کی وجہ سے اقتدار میں آئی ہیں، نواز شریف ساتھ ایشیا کے سینیئر سیاست دان ہیں، پنجاب میں جو سیاسی جماعت زیادہ سیٹیں لے گئی وہ وزیر اعظم بن جاتا ہے۔ 2029 میں بھی امکان ہے کہ وزیر اعظم ن لیگ کا ہوگا۔
میں نے امریکیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ الیکشن ہونے چاہییںسینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر الیکشن اس وجہ سے کرواتے ہیں کہ ہمارا ایک بھرم رہے۔ میں نے امریکیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ الیکشن ہونے چاہییں چاہے وہ جیسے بھی ہوں، الیکشن ضرور ہونے چاہییں۔
نواز شریف مجھ سے اس وجہ سے ناراض ہیں کہ میں نے کہا تھا کہ بدلہ سٹم بند کر دیںسینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف مجھ سے ناراض ہیں، میں نے ایک دفعہ میاں نواز شریف کو کہ بدلہ لینے کی روش کو ختم کردیں وہ مجھ سے ناراض ہوگئے، عمران خان کو کہا مفاہمت کر لیں وہ بھی نہیں مانے۔ عمران خان ناراض نہیں ہوئے لیکن انہوں نے عمل نہیں کیا، نواز شریف ناراض ہوگئے۔
مریم نواز نے سیاست ابھی شروع نہیں کیایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ابھی سیاست شروع نہیں کی وہ اب گورننس کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں دونوں کام ہونے چاہییں عوام سے جلسوں کے ذریعے خطاب کرنا چاہیے اور گورننس کو بہتر کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمران خان کی رہائی کا راستہ نواز شریف سہیل وڑائچ سے ناراض ویٹرن صحافی سہیل وڑائچ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمران خان کی رہائی کا راستہ سینیئر صحافی سہیل وڑائچ ہونے چاہییں نواز شریف مریم نواز کی وجہ سے ہیں کہ نے کہا
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔