(ویب ڈیسک)وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات نے سرکاری افسران اور ملازمین کی جانب سے رہائش  ہائر کرنے کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنانے کے لیے ڈی سینٹرلائزیشن پالیسی کی منظوری دے دی ۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کو تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو عملدرآمد کے لیے باقاعدہ طور پر سرکولیٹ کر دیا گیا ہے،اس حوالے سے جوائنٹ سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات فیاض الحق کی جانب سے باقاعدہ آفس میمورنڈم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
آفس میمورنڈم میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے اکاموڈیشن کی ہائرنگ اپنے مختص کردہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے کریں، حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اخراجات کو کنٹرول کرنا اور رہائشی سہولتوں کے حصول کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
وزارت ہاؤسنگ کے ذرائع کے مطابق نئی ڈی سینٹرلائزیشن پالیسی کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کو اپنے ملازمین کی رہائش کے معاملات میں زیادہ انتظامی خودمختاری حاصل ہوگی، جس سے فیصلوں میں تاخیر کم ہوگی اور ملازمین کو بروقت سہولت مل سکے گی۔

پی پی ایس سی کا 7 محکموں کی 85 آسامیوں پراُمیدواروں کے حتمی نتائج کا اعلان

حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا اطلاق گریڈ ایک سے لے کر گریڈ بائیس تک کے تمام سرکاری ملازمین پر ہوگا جس  سے توقع کی جا رہی ہے کہ رہائشی سہولتوں کی فراہمی کا نظام مزید منظم اور تیز رفتار ہو جائے گا،نئی پالیسی کا بنیادی مقصد شفافیت، سہولت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے تاکہ سرکاری وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف