data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کا عمل زور و شور سے جاری ہے، جس میں ملک بھر کے 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنی رائے دے رہے ہیں۔

الیکشن میں ملک کے 299 حلقوں میں صبح 7:30 بجے سے پولنگ کا آغاز ہوا جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گا۔ اس بار 300 نشستوں پر امیدوار مد مقابل ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازمی ہے۔

اہم سیاسی جماعتوں میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی شامل ہیں۔ بی این پی کی جانب سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں شفیق الرحمان مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے ہیں۔

اس انتخاب کی خاص بات یہ ہے کہ عوامی لیگ کی قیادت کے خلاف اگست 2024 میں سیاسی تبدیلی کے بعد پارٹی کے امیدوار پابندی کی وجہ سے اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، جس سے سیاسی منظرنامے میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

نیشنل سٹیزن پارٹی، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جماعتِ اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے اہم حلقوں میں مقابلہ اور سخت ہوتا جا رہا ہے۔

انتخابات کے موقع پر ملک بھر میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ ووٹ کا عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار رہ سکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے یقین دلایا کہ ہر طرح کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

حالیہ عوامی سروے کے مطابق اس بار بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

سروے میں بی این پی اتحاد کو 44.

1 فیصد جب کہ جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 جماعتوں کے اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو انتہائی کم فرق کے ساتھ فیصلہ کن انتخابات کی گواہی دے رہا ہے۔ اس معرکے میں ہر ووٹ کی اہمیت بے حد ہے اور ملکی سیاسی مستقبل کا دارومدار اس انتخاب پر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی کے بی این پی

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی