راہل گاندھی کی امریکہ کے ساتھ معاہدے پرمودی حکومت پرکڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس) سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”دراصل مودی حکومت نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے"۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس) سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو امریکہ کے ساتھ اس توہین آمیز معاہدے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی پر بیرونی دبائو ڈالا جا رہا ہے، ان آنکھوں میں خوف صاف ظاہر ہے۔امریکی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریبا تین فیصد سے بڑھ کر 18فیصد ہو گیا ہے، جو چھ گنا زائد ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46بلین ڈالر سے بڑھ کر 146بلین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کوئی پختہ یقین دہانی حاصل کئے بغیر امریکہ سے ہر سال درآمدات میں تقریبا 100 بلین ڈالر کا اضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار ہیں۔ ہمارا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گیا جبکہ امریکی ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہو گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت جا رہا ہے حکومت نے انہوں نے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔