عمران خان کی صحت کے معاملے پر پی ٹی آئی نے کل احتجاج کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت نے بانی پی ٹی ائی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے فوراً بعد تمام اضلاع میں پریس کلبز کے سامنے جمع ہو کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اپنے قائد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
جنید اکبر نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جس پر خاموش رہنا ممکن نہیں، پارٹی کارکنان کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بڑی تعداد میں گھروں سے نکلیں اور اپنے لیڈر کے حق میں آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قوم کے لیے طویل جدوجہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اب کارکنان اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی صحت کے لیے یک زبان ہو کر مطالبہ کریں۔
صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور اپنے قائد سے وفاداری کے اظہار کے طور پر کیا جا رہا ہے، احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہوگا اور کارکنان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ قانون ہاتھ میں نہ لیں اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔
پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے بھی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور عمران خان کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی صحت
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔