اگر رائٹر نہیں ہے تو آپ کہاں کے ہیرو ہیں؟ ناصر ادیب شان شاہد پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان کے مشہور رائٹر ناصر ادیب نے لیجنڈ اداکار شان شاہد کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔اداکار شان شاہد کی عید الفطر کے موقع پر ایک نئی پنجابی فلم 'بھلا' ریلیز ہونے کیلئے تیار ہے جس کی پروموشن کیلئے اداکار ان دنوں مصروف ہیں۔فلم کی پروموشن کی ایک تقریب میں اداکار سے سوال کیا گیا کہ فلم کے رائٹر ناصر ادیب ساتھ موجود کیوں نہیں ہیں؟ اس پر اداکار نے طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'وہ کہیں بیٹھ کر برائیاں کررہے ہوں گے۔'سینئر اداکار کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر کافی وائرل تھا جس پر ناصر ادیب نے فوری ردعمل تو نہیں دیا تھا تاہم حال ہی میں ناصر ادیب کا ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے شان شاہد کو آڑے ہاتھوں لیا۔ناصر ادیب نے اداکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شان صاحب کیا میں لوگوں کی برائیاں کرتا ہوں؟ میری پوڈ کاسٹ پچھلے 2 سالوں سے چل رہی ہے، میں ایک سوال کرتا ہوں کون سی بات ہے جو میں نے غلط کہی؟ کون سی بات ہے جو میں نے جھوٹ بولی؟ میں نے کس پر غلط الزام لگایا؟ میں نے کس کی کردار کشی کی؟انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے متعلق ایک پروگرام کیا وہ دیکھیں! آپ کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ اگر رائٹر نہیں ہے تو آپ کہاں کے ہیرو ہیں؟ بغیر رائٹر کے ہٹ ہوکر دکھائیں، جب آپ رائٹر کے بغیر کچھ نہیں تو آپ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ کہیں بیٹھ کر برائیاں کررہا ہوگا۔ناصر ادیب کا کہنا تھا کہ میں نے ڈائریکٹر سے آپ کی مخالفت کی تھی، منع کیا تھا آپ کو فلم میں کاسٹ نہ کریں کیونکہ آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے اور گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں، اسکرپٹ پر اعتراض کرتے ہیں، اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرواتے ہیں اور یہ ڈائریکٹر کو ڈائریکٹر نہیں سمجھتے، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ خود ہی کیمرا پکڑ کر بیٹھ جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ڈائریکٹر سے بولا کہ اگر مجھے گارنٹی دی جائے کہ اداکار اسکرپٹ پر اعتراض نہیں کریں گے تو میری طرف سے اجازت ہے کہ انہیں لے لیا جائے، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شاہ رخ خان سے بھی بڑا آرٹسٹ ہے۔ناصر ادیب کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے آپ میری پاکستانی فلم انڈسٹری کے دشمن ہیں، فلم انڈسٹری پر زوال کیوں آیا کبھی سوچا ہے؟ آپ زوال لے کر آئے ہیں، آپ کو فلمیں ملنا کیوں بند ہوگئی ہیں کیونکہ آپ سیٹ پر گھنٹوں تاخیر سے آتے تھے، اس کا میں خود بھی گواہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل