حکومت کا موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہ کرنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصول نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ ایک ماہ تک نیٹ میٹرنگ پالیسی میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ نیٹ بلنگ پالیسی کا اطلاق صرف نئے سولر صارفین پر ہوگا، جبکہ موجودہ صارفین اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحادی جماعتیں بھی سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں، حتیٰ کہ ان کی اہلیہ بھی اس پالیسی کے خلاف ہیں۔
یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ نئے قواعد کے تحت پرانے سولر صارفین بدستور اپنی بجلی 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کریں گے، تاہم نئے صارفین کے لیے فی یونٹ نرخ میں 17 روپے 19 پیسے کی نمایاں کمی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سولر صارفین
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔