حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے جمعرات کو قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے سے متعلق ریگولیشنز کے خلاف توجہ دلا نوٹس پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ آٹھ، نو ماہ سے زیرِ غور تھا اور حکومت اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور بعد ازاں کابینہ میں لے کر گئی۔ انہوں نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کا نظام 2017 میں متعارف کرایا گیا اور نیپرا اب تک چار سے پانچ مرتبہ اس کی ریگولیشنز میں تبدیلی کر چکا ہے۔اویس لغاری نے بتایا کہ اس وقت ملک میں شمسی توانائی سے 20 سے 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جس میں سے چھ سے سات ہزار میگا واٹ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جب کہ کمرشل اور گھریلو صارفین تقریبا چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ مجموعی سولر پیداوار کا صرف آٹھ سے دس فیصد حصہ نیٹ میٹرنگ پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2024-25 میں مجموعی بجلی پیداوار کا 55 فیصد کلین انرجی پر مشتمل تھا اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک یہ شرح 90 فیصد تک پہنچا دی جائے۔ اس وقت چار لاکھ 66 ہزار صارفین نیٹ میٹرنگ پر موجود ہیں۔ نئی ریگولیشنز کے تحت خریداری قیمت 27 روپے فی یونٹ برقرار رکھی گئی ہے جب کہ حکومت کو دیگر ذرائع سے آٹھ روپے فی یونٹ تک بجلی دستیاب ہے۔وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کا منافع 50 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ جائے گا اور سوال یہ ہے کہ کیا 100 روپے پر 37 روپے منافع ناکافی ہے؟ اویس لغاری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا ریگولیشنز کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سولرنیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کو سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار لاکھ 66 ہزار صارفین نے حکومت کی کلین انرجی پالیسی پر اعتماد کیا، کیا اب بجلی کے نقصانات کا بوجھ انہی پر ڈالا جائے گا؟ شرمیلا فاروقی نے مزید کہا کہ حکومت اپنی نااہلی اور کرپشن کا بوجھ سولر صارفین پر منتقل کر رہی ہے۔اویس لغاری نے مزید بتایا کہ حکومت نے ایک سال میں 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی سے تین ہزار 400 ارب روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچی سن کالج لاہور کے طلبا و اساتذہ کیساتھ خصوص نشست ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچی سن کالج لاہور کے طلبا و اساتذہ کیساتھ خصوص نشست پی ایس کیو سی اے اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایم او یو پر دستخط ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ آنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام فیضان مدینہ اسلام آباد میں فری آئی کیمپ کا انعقاد پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔