پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی کی بینائی کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا، تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کی گئی، بانی پی ٹی آئی کو اسپیشلسٹ کو نہیں دکھایا گیا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، تحقیقات ہونی چاہیے اس کا کون ذمہ دار ہے۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی ملاقات ہوتی رہتی تو ایسا نہ ہوتا، کوئی پاکستانی نہیں کہہ سکتا کہ یہ درست ہوا ہے، جو عذر لائے گا وہ بھی مجرموں کا ساتھی ہے، بطور قائد حزب اختلاف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظمیوں اور سفیروں کو اس ظلم کی تفصیل بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ اکتوبر تک ٹھیک تھی، ان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، بانی پی ٹی آئی نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا آنکھ میں تکلیف ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ یا متعلقہ حکام نے توجہ نہیں دی، مجرمانہ غفلت کی گئی، تین ماہ بعد بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی مکمل چلی گئی ہے، پھر انہیں پمز لایا گیا، بانی پی ٹی آئی کو اسپیشلسٹ کو نہیں دکھایا گیا، ان کی آنکھ میں جو ٹیکا لگایا گیا اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اسلام میں اگر ایک شخص کی ایک آنکھ کی بینائی چلی جائے تو کہا جاتا ہے یہ قتل ہے، یہ خدا کے سامنے جرم ہے، وہ آپ کی کسٹڈی میں تھے اور آپ نے انہیں چیک نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو جرم ہوا وہ پورا ملک دیکھ رہا ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمیں کسی ایک دن تو اکٹھا ہونا چاہیے، مل جانا چاہیے، ہم سیاستدان تو اکٹھے ہوں، ہم کب تک آپس میں لڑتے رہیں گے، ہمیں معلوم ہے اصل مجرم کون ہے، سامنے حکومت ہے ہم ان سے پوچھیں گے، یہ ذمہ دار ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج کی کارروائی معطل کی جائے، ہم بانی کی صحت کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں، یہ اہم مسئلہ ہے، یہ پاکستانیوں اور دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کیلئے اہم مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہم نے پہلے بھی بات کی، وزیر قانون نے ہمیں کہا تھا بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، کہا گیا تھا کوئی بڑا مسئلہ نہیں کہ پریشان ہوا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی کی بینائی آنکھ کی کی آنکھ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی