عمران خان کے علاج اور ملاقات تک اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کل سے دھرنا دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کو اپوزیشن اتحاد کے ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اُس وقت تک جاری رہے گا کہ بانی سے ملاقات اور مکمل علاج تک دھرنا جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، جس کیلیے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔
مزید پڑھیںعمران خان کی آنکھ خراب ہونے کا سن کر مشی خان رو پڑیں، ویڈیو وائرل
اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو سپریم کورٹ جائے، رانا ثنا
سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج، اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی
دھرنا دینے کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد قائدین کی اسلام آباد میں مشاورت کے دوران ہوا، جس کل نماز جمعہ کے بعد سے شروع ہوگا جبکہ سینیٹرز کو بھی دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کے پی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین صوبائی، قومی اسمبلی اور اراکین سینیٹ کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس کے کا فیصلہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔