اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کو اپوزیشن اتحاد کے ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اُس وقت تک جاری رہے گا کہ بانی سے ملاقات اور مکمل علاج تک دھرنا جاری رہے گا۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، جس کیلیے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔

مزید پڑھیں

عمران خان کی آنکھ خراب ہونے کا سن کر مشی خان رو پڑیں، ویڈیو وائرل

اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو سپریم کورٹ جائے، رانا ثنا

سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج، اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی

دھرنا دینے کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد قائدین کی اسلام آباد میں مشاورت کے دوران ہوا، جس کل نماز جمعہ کے بعد سے شروع ہوگا جبکہ سینیٹرز کو بھی دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کے پی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین صوبائی، قومی اسمبلی اور اراکین سینیٹ کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس کے کا فیصلہ

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ