حکومت نے بھارت سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کی ملک بدری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستان نے بھارت سے پاکستان آ کر پسند کی شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور کی ملک بدری روک دی۔ سربجیت کور نے اسلام قبول کر کے اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا ہے، اسے دارالامان سے نکال کر اس کے شوہر ناصر حسین کے گھر پہنچا دیا گیا۔سربجیت کور 4 نومبر کو بابا گرونانک کےجنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے سکھ یاتریوں کے ساتھ بھارت سے پاکستان آئی تھی جہاں اس نے ناصر حسین سے شادی کر لی، 13 نومبر کو بھارتی خاتون کی ویزے کی معیار ختم ہوئی مگر وہ واپس نہیں گئی۔نورفاطمہ (سربجیت کور) نے وکیل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔ باقی زندگی پاکستان میں ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہیں۔ نورفاطمہ نے کہا کہ پاکستانی اداروں نےاچھا سلوک کیا، انہیں کوئی شکوہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سربجیت کور
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔