ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے نمیبیا کو 93 رنز سے شکست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے گروپ اے کے 18ویں میچ میں بھارت نے نمیبیا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 93 رنز سے شکست دے دی۔دہلی میں کھیلے گئے میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 209 رنز بنائے۔ایشان کشن نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے صرف 24 گیندوں پر 61 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں 6 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ہاردک پانڈیا نے بھی 28 گیندوں پر 52 رنز بنا کر ٹیم کا اسکور مستحکم کیا۔ سنجو سیمسن نے محض 8 گیندوں پر 22 رنز اسکور کیے۔ نمیبیا کی جانب سے کپتان گیرہارڈ اراسمس سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔210 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نمیبیا کی ٹیم 18.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔