بنو قابل حیدرآباد کی تیاریاں مکمل،انٹری ٹیسٹ 15 فروری کو ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) بنوقابل حیدرآباد کی تیاریاں آخری مراحل میں، تیاریاں مکمل کر لی گئی 15فروری بروز اتوار 3بجے سہ پہر لطیف آباد پبلک اسکول گراؤنڈمیں انٹری ٹیسٹ ہوں گے حیدرآباد کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے عظیم مشن ”بنوقابل” کے حوالے سے ایک اہم اجلاس الخدمت سیکرٹریٹ مکی شاہ روڈ میں منعقدہو ا۔اجلاس میں جماعت اسلامی ضلع حیدرآبادکے نائب امر اء عقیل احمد خان، عبدالقیوم شیخ، جنرل سیکرٹری محمد حنیف شیخ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباسط خان، حافظ سفیان ناصر ،الخدمت فاؤنڈیشن حیدرآباد کے صدر نعیم عباسی، جنرل سیکرٹری سلیم خان، مصعب احسن قاضی نے شرکت کی اور پروگرام کی کامیابی کے لیے فائنل پلاننگ کو حتمی شکل دی۔ اجلاس میں انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد انجینئر حافظ طاہر مجید نے ٹیم کو خصوصی ہدایات دیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام حیدرآباد کے مستقبل کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا ،حیدرآباد کی تاریخ کا ایک بہترین اور کامیاب ترین آئی ٹی پروگرام ہوگا جو نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ہم حیدرآباد کے نوجوانوں کو آئی ٹی کی دنیا میں بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں، اور بنوقابل اس خواب کی تعبیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حیدرا باد کے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔