سرکاری ملازمین کیلئے گھر حاصل کرنا آسان، نئی ڈی سینٹرلائزیشن پالیسی منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات نے سرکاری افسران اور ملازمین کیلئے رہائش حاصل کرنے کے عمل کو مزید شفاف، آسان اور مؤثر بنانے کیلئے نئی ڈی سینٹرلائزیشن پالیسی کی منظوری دے دی۔
اس فیصلے کا اطلاق گریڈ ایک سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری ملازمین پر ہوگا، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ رہائشی سہولتوں کی فراہمی کا نظام مزید منظم اور تیز رفتار ہو جائے گا۔
وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو عملدرآمد کیلئے باقاعدہ سرکولیٹ کر دی گئی ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات فیاض الحق کی جانب سے بھی آفس میمورنڈم جاری کیا گیا، جس میں تمام وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کیلئے رہائش کے انتظامات اپنے مختص بجٹ کے اندر رہتے ہوئے کریں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی عرب کے وزیر دفاع سے اہم ملاقات
اس اقدام کا بنیادی مقصد اخراجات پر قابو پانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور رہائشی سہولتوں کے حصول کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کو اپنے ملازمین کی رہائش کے معاملات میں زیادہ انتظامی خودمختاری حاصل ہوگی، جس سے فیصلوں میں تاخیر کم ہوگی اور ملازمین کو بروقت سہولت مل سکے گی۔
وزارت ہاؤسنگ کے ذرائع کے مطابق اس پالیسی سے نہ صرف مالی نظم و ضبط مضبوط ہوگا بلکہ سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ملازمین کو ان کی ضروریات کے مطابق رہائش فراہم کرنے کے عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھانے کیلئے یہ ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزارت ہاو سنگ ملازمین کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔