عمان میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، رویتِ ہلال کمیٹی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سلطنتِ عمان نے رمضان المبارک 1447 ہجری کے آغاز کی سرکاری تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں رمضان کا پہلا روز جمعرات 19 فروری 2026 کو ہوگا۔
سلطنت عمان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے سائنسی حسابات کی بنیاد پر اعلان کیا کہ 29 شعبان 1447 ہجری بروز منگل 17 فروری کو چاند غروبِ آفتاب سے پہلے یا اسی وقت تمام گورنریٹس میں غروب ہو جائے گا، جس کے باعث اس روز ہلال کی رویت فلکیاتی طور پر ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، علما کی اتحاد و یکجہتی کی اپیل
کمیٹی کے مطابق قابلِ مشاہدہ حقائق اور سائنسی یقین کو مدنظر رکھتے ہوئے بدھ 18 فروری 2026 کو شعبان کا آخری دن قرار دیا گیا ہے، جبکہ جمعرات 19 فروری کو یکم رمضان ہوگا۔
متحدہ عرب امارات میں بھی شارجہ اکیڈمی برائے فلکیات، خلائی سائنسز و ٹیکنالوجی نے اعلان کیا ہے کہ 17 فروری کو جدید ترین دوربینوں کی مدد سے بھی رمضان کا چاند نظر آنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے وہاں بھی 19 فروری سے رمضان شروع ہونے کا امکان ہے۔
ادھر پاکستان میں ماہرینِ فلکیات کے مطابق 17 فروری کو شام 5 بج کر ایک منٹ پر نیا چاند پیدا ہوگا اور 18 فروری کو 29 شعبان کے روز چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو پشاور میں طلب کیا گیا ہے جہاں موصولہ شہادتوں کی روشنی میں حتمی اعلان کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: رمضان المبارک 2026 کا چاند کب نظر آئے گا؟ محکمہ موسمیات نے نئی پیش گوئی کردی
یوں عمان اور متحدہ عرب امارات میں رمضان کا آغاز 19 فروری سے متوقع ہے، جبکہ پاکستان میں چاند کی رویت کا حتمی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
19 فروری رمضان المبارک سلطنتِ عمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک ہلال کمیٹی فروری کو
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔