رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ اس حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس 18 فروری کو پشاور میں طلب کر لیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مولانا سید عبد الخبیر آزاد کریں گے، جس میں ماہ رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رویت کا فیصلہ اور اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس میں مرکزی و زونل رویت ہلال کمیٹی پشاور کے ممبران شریک ہوں گے جب کہ وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان سے ڈائریکٹر جنرل حافظ عبدالقدوس، محکمہ سپارکو سے شوکت اللہ خان، محکمہ موسمیات سے ڈاکٹر حسن علی بیگ اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے زین العابدین بھی شرکت کریں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی عرب کے وزیر دفاع سے اہم ملاقات
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے تمام اہلیان پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ماہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا خصوصی اہتمام کریں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز پاکستان کو اس دفعہ بھی ایک ہی دن روزہ عطا فرمائے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔