رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ اس حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس 18 فروری کو پشاور میں طلب کر لیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان مولانا سید عبد الخبیر آزاد کریں گے، جس میں ماہ رمضان المبارک 1447ھ کے چاند کی رویت کا فیصلہ اور اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس میں مرکزی و زونل رویت ہلال کمیٹی پشاور کے ممبران شریک ہوں گے جب کہ وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان سے ڈائریکٹر جنرل حافظ عبدالقدوس، محکمہ سپارکو سے شوکت اللہ خان، محکمہ موسمیات سے ڈاکٹر حسن علی بیگ اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے زین العابدین بھی شرکت کریں گے۔
مزید پڑھیںیکم رمضان المبارک کو ہلکی بارش کا امکان
پاکستان میں رمضان کا چاند کب نظر آئے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
رمضان ریلیف پیکج کے تحت 13 ہزار روپے وظیفہ منظور، حکومت اعلان آج کرے گی
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے تمام اہلیان پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ماہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کا خصوصی اہتمام کریں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز پاکستان کو اس دفعہ بھی ایک ہی دن روزہ عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی رمضان المبارک
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔