بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: کتنی خواتین کو کامیابی ملی؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں اب تک موصولہ نتائج کے مطابق 7 خواتین امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیشی اخبار پروتھم آلو نے عبوری نتائج کی بنیاد پر یہ خبر دی ہے۔
اگرچہ انتخابی کمیشن نے ابھی تک سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا، عبوری اعداد و شمار کے مطابق خواتین نے محدود حصہ ہونے کے باوجود قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیںٍ:
ان 7 کامیاب امیدواروں میں مانک گنج-3 سے افروزہ خانم ریٹا، سلہٹ-2 سے تھسینا رشدی لونا، ناتور-1 سے فرزانہ شرمین، فریدپور-2 سے شمع عبید اسلام اور فریدپور-3 سے نیاب یوسف احمد شامل ہیں۔
اسی طرح جھالاکاتی-2 سے عشرت سلطانہ ایلن بھٹو اور برہمن باریا-2 سے آزاد امیدوار رومین فرحانہ بھی جیت گئیں۔
جمعرات کے انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تعداد بہت محدود تھی۔
مزید پڑھیں:
مقامی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر 1,981 امیدواروں میں صرف 78 خواتین شامل تھیں۔
اس کے باوجود 7 خواتین امیدواروں کی کامیابی ایک حوصلہ افزا نتیجہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ خواتین اب بھی اپنی موجودگی کا مضبوط تاثر قائم رکھ سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعداد و شمار انتخابات بنگلہ دیش پروتھم آلو خواتین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش پروتھم ا لو خواتین
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔