ٹرمپ اگلے ہفتے غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے بحالی منصوبے اور بین الاقوامی فوج تعیناتی کا اعلان کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے واشنگٹن میں اپنے بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے بحالی منصوبے کا اعلان کریں گے اور فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کی منظوری سے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی تفصیلات پیش کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جن میں کئی سربراہان مملکت بھی شامل ہیں۔ یہ اجلاس 19 فروری کو ٹرمپ کی صدارت میں ہوگا۔
مزید پڑھیں: شہباز شریف واشنگٹن میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے
ٹرمپ نے 23 جنوری کو ڈیوس، سوئٹزرلینڈ میں بورڈ آف پیس کے قیام کے دستاویزات پر دستخط کیے تھے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ منصوبے کے ایک حصے کے طور پر منظور کیا۔ بورڈ میں ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور انڈونیشیا سمیت کئی خطے اور ابھرتے ہوئے ممالک شامل ہیں، جبکہ مغربی طاقتیں زیادہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے بھی بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
اجلاس کا مرکزی موضوع صرف غزہ ہوگا اور اس میں ٹرمپ غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈ کی تفصیلات بتائیں گے، جس میں شامل ممالک کی مالی شراکتیں بھی شامل ہوں گی۔ امریکی اہلکار کے مطابق یہ پیشکشیں ’سخاوتمندانہ‘ ہیں اور امریکی حکومت نے کسی مخصوص عطیہ کی درخواست نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی منظوری سے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے اگلے مرحلے کا اہم حصہ ہے، جس کا اعلان ستمبر میں کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے کے تحت 10 اکتوبر کو 2 سالہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی ہوئی، حماس نے یرغمالی افراد رہا کیے اور اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔
مزید پڑھیں: فلسطین میں پائیدار امن کے لیے بورڈ آف پیس پر دستخط، پاکستان کی اصولی اور فعال سفارت کاری کا اظہار
امریکی حکام کے مطابق کئی ممالک چند ہزار فوجی استحکام فورس میں شامل کریں گے، جو آنے والے مہینوں میں غزہ میں تعینات ہوں گے۔ منصوبے کے تحت حماس کے وہ ارکان جو پرامن بقائے باہمی اور ہتھیار ختم کرنے کے عزم کے ساتھ تعاون کریں گے انہیں معافی دی جائے گی، جبکہ جو چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں غزہ کی قومی کمیٹی کے کام، انسانی ہمدردی کی امداد، اور غزہ پولیس کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بورڈ آف پیس ڈیوس، سوئٹزرلینڈ غزہ واشنگٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بورڈ ا ف پیس ڈیوس سوئٹزرلینڈ واشنگٹن اقوام متحدہ بورڈ آف پیس اجلاس میں کریں گے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘