بنگلادیش انتخابات: جماعت اسلامی نے نتائج پر اپنا مؤقف واضح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے بعد جماعت اسلامی نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ووٹرز کی مثبت اور پرامن شرکت قابل ستائش ہے، لیکن انتخابی نتائج کی شفافیت کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
جماعت اسلامی نے نشاندہی کی کہ 11 جماعتی اتحاد کے کئی امیدوار معمولی مارجن سے ہار گئے، غیر سرکاری نتائج میں بار بار تضادات اور غلط بیانی سامنے آئی، اور انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کا فیصد جاری نہ کرنا بھی خدشات بڑھاتا ہے۔
پارٹی نے کہا کہ انتظامیہ کے بعض حصوں میں بڑی سیاسی جماعت کے لیے سہولت کاری کے آثار دیکھنے میں آئے، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
بیان میں عوام سے صبر اور تحمل کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے باضابطہ پروگرام کا انتظار کیا جائے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔
جماعت اسلامی نے اس موقع پر واضح کیا کہ بنگلادیش کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ عوامی حقوق اور شفاف انتخابی عمل کے لیے سرگرم رہیں گے۔
واضح رہے کہ بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں سیاسی میدان میں سب سے بڑی کامیابی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی رہی۔
غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اب تک بی این پی اور اس کے اتحادی جماعتوں نے مجموعی طور پر 299 نشستوں میں سے 209 نشستیں اپنے نام کر لی ہیں، جس سے ملک میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر بی این پی کے حق میں متحرک ہو گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔