data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے بعد جماعت اسلامی نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جماعت اسلامی نے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ووٹرز کی مثبت اور پرامن شرکت قابل ستائش ہے، لیکن انتخابی نتائج کی شفافیت کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی نے نشاندہی کی کہ 11 جماعتی اتحاد کے کئی امیدوار معمولی مارجن سے ہار گئے، غیر سرکاری نتائج میں بار بار تضادات اور غلط بیانی سامنے آئی، اور انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کا فیصد جاری نہ کرنا بھی خدشات بڑھاتا ہے۔

 پارٹی نے کہا کہ انتظامیہ کے بعض حصوں میں بڑی سیاسی جماعت کے لیے سہولت کاری کے آثار دیکھنے میں آئے، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

بیان میں عوام سے صبر اور تحمل کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے باضابطہ پروگرام کا انتظار کیا جائے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔

جماعت اسلامی نے اس موقع پر واضح کیا کہ بنگلادیش کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ عوامی حقوق اور شفاف انتخابی عمل کے لیے سرگرم رہیں گے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں سیاسی میدان میں سب سے بڑی کامیابی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی رہی۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اب تک بی این پی اور اس کے اتحادی جماعتوں نے مجموعی طور پر 299 نشستوں میں سے 209 نشستیں اپنے نام کر لی ہیں، جس سے ملک میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر بی این پی کے حق میں متحرک ہو گیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی