بنگلہ دیش کو 35 سال بعد مرد وزیراعظم ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں 35 برس بعد ایک مرد وزیراعظم بننے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد طارق رحمان کے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
’ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘طارق رحمان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں جس کا خواب ہر ماں دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔‘
60 سالہ طارق رحمان تقریباً 17 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے ہیں۔ وہ 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں ملک چھوڑ گئے تھے۔
2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد گزشتہ دسمبر میں طارق رحمان کی واپسی ممکن ہوئی۔
سیاسی وراثت اور خاندانی پس منظرطارق رحمان ایک مضبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ سابق صدر ضیا الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کے فرزند ہیں۔
ان کے والد ضیا الرحمان 1977 سے 1981 تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ اب طارق رحمان بھی اپنے والدین کی طرح اعلیٰ حکومتی عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
کیا مضبوط سیاسی منظرنامہ کافی ہوگا؟اگرچہ بی این پی کی انتخابی کامیابی نے ان کی پوزیشن مضبوط کر دی ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا طارق رحمان بنگلہ دیش کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں گے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ بنگلہ دیش
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔