سوشل میڈیا کی افواہیں دم توڑ گئیں، عادل خان بازئی خیریت سے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
گزشتہ چند روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی تھی کہ عادل خان بازئی مبینہ طور پر Lymphoma (بلڈ کینسر) جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ای سی ایل میں نام شامل ہونے کے باعث بیرونِ ملک علاج کے لیے نہیں جا پا رہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اسے ایک انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے آواز اٹھانے کی اپیلیں بھی کی جا رہی تھیں۔
برائے مہربانی عادل خان بازئی کے لیے آواز اٹھائیں۔????????????
عادل خان بازئی کافی عرصے سے منظرِ عام سے غائب تھے، اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ Lymphoma (بلڈ کینسر) جیسے خطرناک مرض سے لڑ رہے ہیں۔
بدقسمتی سے عادل کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی… pic.
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) February 13, 2026
تاہم اب خود عادل خان بازئی کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں ان خبروں کی واضح تردید کر دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق وہ مکمل خیریت سے ہیں اور ان کا کامیاب علاج ہو چکا ہے۔
الحمدللہ میں خیریت سے ہوں۔
مجھے Lipoma لیپوما تھا جو کہ ایک بے ضرر چربی کی گلٹی ہوتی ہے، اس کا کامیاب علاج ہو چکا ہے۔ اسے غلطی سے Lymphoma لیمفوما (کینسر) سمجھ لیا گیا تھا، جو درست نہیں تھا۔
تمام احباب کا محبت اور دعاؤں پر دل سے شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے قائد عمران خان کو…
— Adil Khan Bazai (@AdilBaxai) February 13, 2026
وضاحت میں کہا گیا کہ انہیں Lymphoma نہیں بلکہ Lipoma تھا، جو ایک بے ضرر چربی کی گلٹی ہوتی ہے۔ طبی اصطلاح کی غلط فہمی کے باعث Lipoma کو Lymphoma سمجھ لیا گیا، جس سے کینسر سے متعلق افواہیں پھیل گئیں۔
عادل خان بازئی نے عوام، کارکنان اور دوست احباب کا محبت اور دعاؤں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے گریز کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلڈ کینسر عادل خان بازئی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔