بنگلہ دیش کے 13ویں جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں موجود جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی۔

الیکشن حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 297 نشستوں پر ہونے والے مقابلے میں بی این پی نے 209 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار حد سے کہیں زیادہ ہے۔

تازہ تفصیلات کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کیں جبکہ جماعتِ اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اور خلافت مجلس نے 2 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ دیگر جماعتوں نے مجموعی طور پر 5 نشستیں حاصل کیں اور 7 آزاد امیدوار بھی کامیاب قرار پائے۔

حکام کے مطابق 2 حلقوں کے نتائج ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت معاملات کے باعث جاری نہیں کیے گئے۔ متعلقہ عدالتی ہدایات کی روشنی میں ان نشستوں کا اعلان مؤخر کیا گیا ہے۔

واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بی این پی آئندہ حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں آچکی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد مزید باضابطہ اعلانات جاری کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59.

44 فیصد رہا۔

الیکشن اور ریفرنڈم گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے۔ آج صبح نتائج کے اعلان کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز روح الامین ملک نے تقریباً ساڑھے 11 بجے صحافیوں کو بتایا کہ ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی شرح 59.44 فیصد رہی۔

299 نشستوں کے لیے ووٹنگ، عوام کا پُرامن اظہارِ رائے

ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر ہزاروں مرد و خواتین نے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ کچھ افراد بیساکھیوں یا وہیل چیئر پر بھی پولنگ مراکز پہنچے۔ ووٹرز نے بغیر کسی خوف کے 300 میں سے 299 پارلیمانی نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔

خواتین کی نمایاں شرکت

خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر دیکھی گئی۔ کئی خواتین گروپوں کی صورت میں ووٹ ڈالنے آئیں، جو مختلف عمر کے افراد اور دونوں جنسوں کی وسیع شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار بیک وقت 2 ووٹ

نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ووٹرز نے آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن پارلیمانی انتخاب اور ریفرنڈم ایک ساتھ منعقد کیے گئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب برسوں کی سیاسی کشمکش کے بعد ملک کے جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

جماعتِ اسلامی کا انتخابی نتائج کی شفافیت پر اعتراض

دوسری جانب بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے قومی انتخابات کے نتائج کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ انتخابی نتائج کے گرد عمل سے مطمیئن نہیں ‘۔

پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار مختلف حلقوں میں معمولی اور مشکوک فرق سے ہارے۔ جماعت کے مطابق غیر سرکاری نتائج کے اعلانات میں بار بار تضادات اور مبینہ من گھڑت اعداد و شمار سامنے آئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح جاری نہ کرنے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کے ایک حصے نے مبینہ طور پر ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ کیا، جس سے نتائج کے عمل کی دیانتداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور 11 جماعتی اتحاد کے آئندہ لائحہ عمل کا انتظار کریں۔ پارٹی نے کہا کہ اتحاد کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری پروگرام کے مطابق آئندہ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟

60  سالہ طارق رحمان سابق بنگلہ دیشی صدرضیاالرحمان کے خاندان کے با اثر رکن ہیں، جنہوں نے دہائیوں سے ملک کی سیاست پر اثرورسوخ رکھا ہے، ان کے والدین دونوں پہلے ہی بنگلہ دیش کے قائد رہ چکے ہیں۔

تاہم طارق رحمان کے لیے اعلیٰ عہدے تک پہنچنا آسان نہیں رہا، ان کی سیاسی زندگی مخالفین کی جانب سے خاندان پر نوازش پسندی اور بدعنوانی کے الزامات، جلاوطنی کا عرصہ، اور ان کے والد کے قتل سے متاثر رہی ہے۔

بی این پی کے چیئرمین بننے کا ان کا آخری سفر چند ہفتے قبل مکمل ہوا، جب بنگلہ دیش انتخابات کی طرف بڑھ رہا تھا اور ان کی والدہ ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم خالدہ ضیا کا انتقال ہو گیا۔

طارق رحمان نے 2001 میں بی این پی میں سیاسی سرگرمی شروع کی، جب وہ اپنی عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں تھے، یہ ان کی والدہ کے دوسرے دورِ وزارتِ عظمیٰ کی ابتدا تھی، ان کی والدہ کا پہلا دور 1991 سے 1996 تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت ڈھاکہ کا انتخابی معرکہ، کس جماعت کا پلڑا بھاری رہا؟

فوجی حکمران سے صدر بننے والے ان کے والد ضیا الرحمان 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں قتل ہو گئے تھے، وہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں ایک اہم شخصیت تھے جنہوں نے 1978 میں بی این پی کی بنیاد رکھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کی جانب سے بنگلہ دیش بی این پی کے مطابق نتائج کے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی