بی این پی کی انتخابی فتح کے بعد پاکستان کا بنگلہ دیش سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی 2 تہائی اکثریت سے کامیابی کے بعد پاکستان نے ڈھاکہ کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جمہوری شراکت داری اور باہمی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کو کراچی میں مقیم بنگالی آبادی کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ وہ طارق رحمان کو پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کو بھی پرامن اور کامیاب انتخابات کے انعقاد پر سراہا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ جنوبی ایشیا اور اس سے آگے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی طارق رحمان کو بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان جمہوری شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے لیے مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں جیتیں۔ بی این پی تقریباً 2 دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کر رہی ہے۔ پارٹی نے اکثریت حاصل کرنے کے بعد قوم کا شکریہ ادا کیا اور ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کی اپیل کی، ساتھ ہی ہدایت دی کہ کسی قسم کی جشن ریلی یا جلوس نہ نکالا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق واضح انتخابی نتیجہ 175 ملین آبادی والے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد مہینوں تک احتجاج اور بدامنی جاری رہی تھی۔ ان حالات نے روزمرہ زندگی اور معیشت، خصوصاً گارمنٹس کی برآمدی صنعت کو متاثر کیا تھا۔
توقع ہے کہ طارق رحمان جلد وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ پارٹی کے بانی اور سابق صدر ضیاء الرحمن کے صاحبزادے ہیں اور 18 برس بیرون ملک قیام کے بعد دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے۔
ادھر امریکا نے بھی بی این پی کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بنگلہ دیش بھارت پاکستان صدر زرداری طارق رحمان وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بنگلہ دیش بھارت پاکستان وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔
لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے
دونوں قائدین نے مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید :