پنجاب میں ہیلتھ سیکٹر کی بہتری ترجیح، 10 ہزار سے زائد بچوں کی ہارٹ سرجریز مکمل کر چکے ہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں منعقدہ ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں شاید پہلی بار کسی وزیراعلیٰ نے ہیلتھ سیکٹر سے وابستہ افراد کے ساتھ ون آن ون نشست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صحت کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ مسائل کا گڑھ بن گیا، تاہم موجودہ حکومت اس شعبے کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پنجاب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی ہیلتھ کانفرنس ہے، کیونکہ اس سے پہلے کسی صوبے کے وزیراعلیٰ نے صحت کے شعبے کے ماہرین اور عملے کے ساتھ براہِ راست تبادلہ خیال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ہیلتھ سیکٹر میں مسائل بڑھتے گئے اور اصلاح کا عمل سست روی کا شکار رہا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ صحت کے نظام کو بہتر بنانا آسان کام نہیں، لیکن حکومت اس چیلنج کو قبول کر چکی ہے اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں 10 ہزار 350 بچوں کی ہارٹ سرجریز مکمل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے کئی بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد بچے شدید علیل حالت میں سرجری کے انتظار میں تھے۔
مریم نواز کے مطابق موجودہ حکومت نے اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دی اور بڑے پیمانے پر بچوں کے دل کے آپریشنز کروا کر ہزاروں قیمتی جانیں بچائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ کسی مریض کو علاج کے لیے انتظار یا محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔