بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی 13ویں جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 297 نشستوں کے مقابلے میں فیصلہ کن کامیابی سمیٹ لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟
الیکشن حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں جیت کر حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت بآسانی حاصل کر لی ہے۔
نشستوں کی تقسیمبی این پی: 209 نشستیں
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش: 68 نشستیں
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی): 6 نشستیں
خلافت مجلس: 2 نشستیں
دیگر جماعتیں: 5 نشستیں
آزاد امیدواران: 7 نشستیں
حکام کے مطابق 2 حلقوں کے نتائج ہائیکورٹ میں جاری کارروائی سے متعلق ہدایات کے باعث تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟
واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بی این پی اب حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے جبکہ دیگر جماعتیں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
طارق رحمان ملک کی وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی توقعبی این پی کے سربراہ 60 سالہ طارق رحمان تقریباً 17 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے ہیں۔ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان سنہ 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں ملک چھوڑ گئے تھے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کو 35 سال بعد مرد وزیراعظم ملنے کا امکان
بنگلہ دیش میں انتخابات کے نتائج سے توقع ہے کہ اب طارق رحمان ملک کے وزیراعظم کی گدی سنبھالیں گے۔ اس طرح گزشتہ 35 برسوں میں وہ پہلے مرد ہوں جو وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ملک کی وزیراعظم حسینہ واجد اور ان سے پہلے طارق رحمان کی مرحوم والدہ ملک کی وزیراعظم تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی کی اکثریت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش بی این پی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔