سانحہ گُل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کا متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
جوڈیشل کمیشن نے سانحہ گل پلازہ کے بعد متاثرہ سائٹ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے گل پلازہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن 14 فروری کو گل پلازہ کا دورہ کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن حکومتی اداروں کو تحقیقات کے لیے طلب کرنے سے قبل پوری عمارت کا خود جائزہ لے گا۔
جوڈیشل کمیشن گل پلازہ کی موجودہ صورتحال کا معائنہ کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن جائے وقوعہ پر آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن، موجود راستے اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے گا۔
کمیشن گل پلازہ کا وزٹ کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرکے طلب کرے گا۔ فائر بریگیڈ، کے ایم سی، ریسکیو ادارے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کو طلب کیا جائیگا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل جوڈیشل کمیشن گل پلازہ کا دورہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔