اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی کو صلح کروا دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ قانونی کشمکش کے بعد میاں بیوی کے درمیان صلح کروا دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جنہوں نے میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ صلح کے بعد دونوں فریقین نے عدالتی حکمنامے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:طلاق یافتہ والدین کے بچوں کو کن قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
عدالت نے خاوند کو ہدایت کی کہ وہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھے اور ان کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو مناسب رہائش فراہم کرے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اسے محبت اور عزت ملنی چاہیے، اور مردوں کی تربیت میں کمی کی وجہ سے اکثر یہ معاملات بگڑ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون
عدالت نے بچوں کی بہبود کا بھی خیال رکھتے ہوئے چاروں بچوں سے والدین کی ملاقات کروائی اور بچوں کو روسٹرم پر بلا کر ان کے انٹرویوز بھی کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام آباد ہائیکورٹ بچے پاکستان صلح میاں بیوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ بچے پاکستان میاں بیوی میاں بیوی
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔