Express News:
2026-06-02@22:15:13 GMT

فلسطینی بچوں کی دہکتی روحیں

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

یہ 10 اکتوبر 2024 کی ایک صبح کا ماجرا ہے۔ غزہ کی یاسمین ماہانی کے خیمے کے پاس ایک بم گرا جو التطابن اسکول کے ملبے میں نصب کیا گیا تھا۔

اس آتشی گولے کے گرنے سے یک دم حرارت بڑھ گئی۔ کالے گہرے دھویں میں اس کے شوہر کی آواز سنائی دی جو اپنے بیٹے سعد کو دیوانہ وار پکاررہا تھا جو باہر کسی کام سے گیا تھا۔ یاسمین اور اس کا شوہر اپنے لختِ جگر کو ڈھونڈتے رہے جو گویا دھواں ہوگیا تھا۔ ہر مسجد (جو اب غزہ میتوں کی شناخت کی جگہ بھی ہے)، میدان، ملبے اور مردہ خانے چھان مارے، لیکن سعد نہیں ملا۔

غزہ کے ایک اور والد نے بتایا کہ بم گرنے سے اس کے چار چھوٹے بچے غائب ہوگئے۔ اس نے ہزاروں مرتبہ ان مقامات کو دیکھا لیکن ان کے کوئی آثار نہ ملے!

10 فروری کو الجزیرہ کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ خون آشام اسرائیل نے نہتے شہریوں پر ایسے درجنوں بم گرائے جنہیں تھرمل یا تھرموبیرک بم کہا جاتا ہے۔

ان میں امریکی عطا کردہ مشہور ایم کے 84 بم بھی شامل ہے جو گرتے ہی 300 میٹر دائرے میں 2500 سے 3000 درجے سینٹی گریڈ گرمی کی دوزخ بناتا ہے اور انسانی جلد، بافتیں اور ہڈیاں سیکنڈوں میں بخارات بن کرہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک بم نے سعد کو نگل لیا تھا جس کی شدت نے اس کی دہکتی ہوئی روح بدن سے آزاد کردی تھی!

غزہ سول ڈیفنس کے مطابق ان کے علم میں ایسی 2842 اموات آئی ہیں جن میں مرنے والوں کی لاش کی باقیات اور ہڈیوں کے بجائے محض خون کے چند دھبے اور راکھ کے ٹکڑے ملے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک جگہ کسی خاندان نے بتایا کہ مرنے والے تین چار لوگوں کی لاشیں تو مل گئیں لیکن ایک یا دو افراد کے کوئی آثار نہ ملے تاہم وہ سب فنا کی گھاٹ اترچکے تھے۔

اسی تناظر میں ایک وائرل ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے جس میں ایک فلسطینی باپ دھاتی چھلنی سے مٹی چھان کر اپنے اہلِ خانہ کی ہڈیاں چن کر ایک سفید کپڑے پر جمع کررہا ہے لیکن اسے دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں روتا، شاید اسد اللہ خان کے افسانے ’’کوفہ کا آخری آدمی‘‘ ہم ہی ہیں۔ 

دھماکا خیز مواد کے روسی ماہر، ویسلائی فیتی گورف کے مطابق تھرموبیرک بم ہرگز عام گولہ بارود نہیں بلکہ ممنوعہ ہتھیارہیں۔ ان میں موجود ٹی این ٹی، المونیئم اور ٹیٹانیئم پاؤڈر بھڑک کر آتشیں گولہ بناتے ہوئے اطراف کو پگھلا دیتے ہیں۔

آسمانی جہنم 

واضح رہے کہ اسرائیل نے 900 کلوگرام وزنی ’ایم کے 84‘ بم کے علاوہ بی ایل یو 109 بنکر بسٹر اور جی بی یو 39 جیسے بموں کا بے رحمانہ استعمال کیا۔ اجل کے اس ’بم دستے‘ نے جگہ جگہ غزہ میں جزوقتی دوزخیں بنائیں، جہاں نہتے اور بے قصور مرد و زن و بچے بخارات بن کر غائب ہوتے رہے لیکن امریکی اور مغربی ہتھیاروں کی جانچ کےلیے انسانی کھال میسر ضرور آگئی۔

نسل کشی اور امن بورڈ

ذرا سوچئے کہ اسرائیل نے کون سا ایسا جنگی جرم نہیں کیا جو آپ کے ذہن میں آسکتا ہے۔ ایک اسنائپر نے 300 بے گناہ جوانوں اور بچوں کو نشانہ بنایا اور پھر گنتی چھوڑ دی۔ خیموں پر گولے، روٹیوں کی قطاروں پر بمباری، مساجد و اسپتالوں پر دستی بم حملے، فضائی حملوں میں ہزاروں ٹن وزنی بموں سے شہر کو تاراج کردیا۔ صحافیوں اور مددگاروں کو چن چن کر مارا، خوراک اور پانی بند کرکے ہزاروں افراد کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنادیا، جو تڑپ تڑپ کر رخصت ہوئے۔ اب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

غزہ کے 80 ہزار شہیدوں میں 20 ہزار بچے ہیں۔ کم ازکم ایک بازو یا ٹانگ سے محروم بچوں کا سب سے بڑا گڑھ اب غزہ ہے، جن کی تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے۔ مائیں بچوں سے کہتی ہیں کہ جلد آپ کا ہاتھ یا پیر واپس آجائے گا لیکن یہ کہہ کر وہ منہ پھیر کر رونے لگتی ہیں۔ پھر وہ آسمان کی جانب سر اٹھا کر رونے لگتی ہیں۔ لیکن ان کی فریاد و فغاں پاکستانی شریفوں، عرب کے سیسیوں اور اماراتی شاہوں کے دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔ کیا ان کے دل و دماغ بند ہیں، ہاں! لیکن واشنگٹن کے لیے ضرور کھلے ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ بھی نہیں کہا کہ ’بس بہت ہوگیا‘، کبھی نہیں کہا کہ بچوں کو کیوں ماررہے ہو؟ کبھی نہیں سوچا کہ غزہ والے مدد کےلیے پکار رہے ہیں؟ کوئی احتجاج، کوئی واک آؤٹ، عالمی عدالتِ انصاف میں کوئی اپیل نہیں کی۔  صرف میرا اقتدار، میرا ملک، میری معیشت کا خیال کرتے ہوئے اپنا قبلہ سفید گھر کی جانب رکھا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے جیفری شیز کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں نیتن یاہو کےلیے بہت بڑی گالی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں اس نے کہا کہ عراق قابو میں آجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اور پھر عراق تاراج ہوا۔ پھر نیتن یاہو نے ایک دوسرے ملک کی دہائی دی۔ اب اسے ایرانی میزائل ستا رہے ہیں، جن کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ 

اگرخدانخواستہ ایرانی دیوار گرگئی اور اگلے پانچ یا دس سال بعد کسی اور نیتن یاہو کو ایٹمی پاکستان یاد آگیا تو کیا کرو گے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیں کہ

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود