فلسطینی بچوں کی دہکتی روحیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
یہ 10 اکتوبر 2024 کی ایک صبح کا ماجرا ہے۔ غزہ کی یاسمین ماہانی کے خیمے کے پاس ایک بم گرا جو التطابن اسکول کے ملبے میں نصب کیا گیا تھا۔
اس آتشی گولے کے گرنے سے یک دم حرارت بڑھ گئی۔ کالے گہرے دھویں میں اس کے شوہر کی آواز سنائی دی جو اپنے بیٹے سعد کو دیوانہ وار پکاررہا تھا جو باہر کسی کام سے گیا تھا۔ یاسمین اور اس کا شوہر اپنے لختِ جگر کو ڈھونڈتے رہے جو گویا دھواں ہوگیا تھا۔ ہر مسجد (جو اب غزہ میتوں کی شناخت کی جگہ بھی ہے)، میدان، ملبے اور مردہ خانے چھان مارے، لیکن سعد نہیں ملا۔
غزہ کے ایک اور والد نے بتایا کہ بم گرنے سے اس کے چار چھوٹے بچے غائب ہوگئے۔ اس نے ہزاروں مرتبہ ان مقامات کو دیکھا لیکن ان کے کوئی آثار نہ ملے!
10 فروری کو الجزیرہ کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ خون آشام اسرائیل نے نہتے شہریوں پر ایسے درجنوں بم گرائے جنہیں تھرمل یا تھرموبیرک بم کہا جاتا ہے۔
ان میں امریکی عطا کردہ مشہور ایم کے 84 بم بھی شامل ہے جو گرتے ہی 300 میٹر دائرے میں 2500 سے 3000 درجے سینٹی گریڈ گرمی کی دوزخ بناتا ہے اور انسانی جلد، بافتیں اور ہڈیاں سیکنڈوں میں بخارات بن کرہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک بم نے سعد کو نگل لیا تھا جس کی شدت نے اس کی دہکتی ہوئی روح بدن سے آزاد کردی تھی!
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق ان کے علم میں ایسی 2842 اموات آئی ہیں جن میں مرنے والوں کی لاش کی باقیات اور ہڈیوں کے بجائے محض خون کے چند دھبے اور راکھ کے ٹکڑے ملے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک جگہ کسی خاندان نے بتایا کہ مرنے والے تین چار لوگوں کی لاشیں تو مل گئیں لیکن ایک یا دو افراد کے کوئی آثار نہ ملے تاہم وہ سب فنا کی گھاٹ اترچکے تھے۔
اسی تناظر میں ایک وائرل ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے جس میں ایک فلسطینی باپ دھاتی چھلنی سے مٹی چھان کر اپنے اہلِ خانہ کی ہڈیاں چن کر ایک سفید کپڑے پر جمع کررہا ہے لیکن اسے دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں روتا، شاید اسد اللہ خان کے افسانے ’’کوفہ کا آخری آدمی‘‘ ہم ہی ہیں۔
دھماکا خیز مواد کے روسی ماہر، ویسلائی فیتی گورف کے مطابق تھرموبیرک بم ہرگز عام گولہ بارود نہیں بلکہ ممنوعہ ہتھیارہیں۔ ان میں موجود ٹی این ٹی، المونیئم اور ٹیٹانیئم پاؤڈر بھڑک کر آتشیں گولہ بناتے ہوئے اطراف کو پگھلا دیتے ہیں۔
آسمانی جہنم
واضح رہے کہ اسرائیل نے 900 کلوگرام وزنی ’ایم کے 84‘ بم کے علاوہ بی ایل یو 109 بنکر بسٹر اور جی بی یو 39 جیسے بموں کا بے رحمانہ استعمال کیا۔ اجل کے اس ’بم دستے‘ نے جگہ جگہ غزہ میں جزوقتی دوزخیں بنائیں، جہاں نہتے اور بے قصور مرد و زن و بچے بخارات بن کر غائب ہوتے رہے لیکن امریکی اور مغربی ہتھیاروں کی جانچ کےلیے انسانی کھال میسر ضرور آگئی۔
نسل کشی اور امن بورڈ
ذرا سوچئے کہ اسرائیل نے کون سا ایسا جنگی جرم نہیں کیا جو آپ کے ذہن میں آسکتا ہے۔ ایک اسنائپر نے 300 بے گناہ جوانوں اور بچوں کو نشانہ بنایا اور پھر گنتی چھوڑ دی۔ خیموں پر گولے، روٹیوں کی قطاروں پر بمباری، مساجد و اسپتالوں پر دستی بم حملے، فضائی حملوں میں ہزاروں ٹن وزنی بموں سے شہر کو تاراج کردیا۔ صحافیوں اور مددگاروں کو چن چن کر مارا، خوراک اور پانی بند کرکے ہزاروں افراد کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنادیا، جو تڑپ تڑپ کر رخصت ہوئے۔ اب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
غزہ کے 80 ہزار شہیدوں میں 20 ہزار بچے ہیں۔ کم ازکم ایک بازو یا ٹانگ سے محروم بچوں کا سب سے بڑا گڑھ اب غزہ ہے، جن کی تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے۔ مائیں بچوں سے کہتی ہیں کہ جلد آپ کا ہاتھ یا پیر واپس آجائے گا لیکن یہ کہہ کر وہ منہ پھیر کر رونے لگتی ہیں۔ پھر وہ آسمان کی جانب سر اٹھا کر رونے لگتی ہیں۔ لیکن ان کی فریاد و فغاں پاکستانی شریفوں، عرب کے سیسیوں اور اماراتی شاہوں کے دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔ کیا ان کے دل و دماغ بند ہیں، ہاں! لیکن واشنگٹن کے لیے ضرور کھلے ہیں۔
انہوں نے ایک مرتبہ بھی نہیں کہا کہ ’بس بہت ہوگیا‘، کبھی نہیں کہا کہ بچوں کو کیوں ماررہے ہو؟ کبھی نہیں سوچا کہ غزہ والے مدد کےلیے پکار رہے ہیں؟ کوئی احتجاج، کوئی واک آؤٹ، عالمی عدالتِ انصاف میں کوئی اپیل نہیں کی۔ صرف میرا اقتدار، میرا ملک، میری معیشت کا خیال کرتے ہوئے اپنا قبلہ سفید گھر کی جانب رکھا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے جیفری شیز کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں نیتن یاہو کےلیے بہت بڑی گالی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں اس نے کہا کہ عراق قابو میں آجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اور پھر عراق تاراج ہوا۔ پھر نیتن یاہو نے ایک دوسرے ملک کی دہائی دی۔ اب اسے ایرانی میزائل ستا رہے ہیں، جن کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
اگرخدانخواستہ ایرانی دیوار گرگئی اور اگلے پانچ یا دس سال بعد کسی اور نیتن یاہو کو ایٹمی پاکستان یاد آگیا تو کیا کرو گے؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیں کہ
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی