گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی نے ابتدائی طور پر 200 افسران اور اہلکاروں کے ساتھ عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ CTD میں مزید 600 آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل رواں سال کے دوران مکمل کر لیا جائے گا اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ کے احکامات کی روشنی میں گلگت بلتستان میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس اسٹیشن کو باضابطہ طور پر قائم کر کے فعال بنا دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی نے ابتدائی طور پر 200 افسران اور اہلکاروں کے ساتھ عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ CTD میں مزید 600 آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل رواں سال کے دوران مکمل کر لیا جائے گا تاکہ ادارے کے استعداد کار کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ سی ٹی ڈی کی بنیادی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے معاونت حاصل کی جائے گی۔ ایس ایس پی تنویر الحسن کو سی ٹی ڈی گلگت بلتستان کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور دہشت گردی سے متعلق اب تک درج تمام مقدمات (ایف آئی آرز) کو باقاعدہ طور پر تھانہ سی ٹی ڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کر دیا
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا