جسٹس محسن نے 3سال کی قانونی جنگ میںمیاں بیوی کی صلح کرادی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران عدالتی تاریخ میں حیران کن موڑ آگیا۔3 سال سے جاری قانونی جنگ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی جس کے بعد اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے۔سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی منظر دیکھے گئے، جسٹس محسن اختر کیانی دونوں میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کردیے۔سماعت کے دوران میاں بیوی کے 4 بچے بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بچوں سے والدین کی کمرہ عدالت میں ملاقات کرائی گئی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے بچوں کو روسٹرم پر بلا کر انٹرویو کیے بچوں نے عدالت کے سامنے والدہ سے کہا کہ ماما آپ گھر آجائیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بچوں کو تحائف بھی دیے۔عدالت کی جانب سے خاوند کو حکم دیا کہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کا بٹوارا نہیں ہوسکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے، یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے، مردوں کی تربیت کا فقدان ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عورت جو اپنے والدین کاگھر چھوڑ کر آتی ہے اس کو محبت اور احترام ملنا چاہیے، مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دکھائے نا، مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے۔عدالت نے کہا کہ اس کیس میں ایسا معلوم ہوتاہے کہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ ہے، عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔