سلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سال کی قانونی جنگ کے دوران میاں بیوی کے درمیان صلح کروا دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سال کی قانونی جنگ کے دوران میاں بیوی کے درمیان صلح کروا دی۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی منظر دیکھنے میں آئے، جسٹس محسن اختر کیانی میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے بعد میاں بیوی نے عدالتی حکم نامے پر دستخط کر دیے۔
عدالت نے خاوند کو بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے، مردوں کی تربیت کا فقدان ہے، ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اس کو محبت اور احترام ملنا چاہیے، مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دکھائے، مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے۔
چاروں بچوں سے والدین کی کمرہ عدالت میں ملاقات بھی کروائی گئی، بچوں کو روسٹرم پر بلا کر جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کے انٹرویو بھی کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میاں بیوی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔