جمہوریت اور پاکستان: چیلنجز اور راہِ حل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں حکومت کا انتخاب عوام کی رائے اور ووٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کا آغاز قدیم یونان میں تقریباً پانچویں صدی قبل مسیح میں ہوا، جب ایتھنز کے شہریوں نے اپنے شہر کو ایک جمہوری نظام کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس دور میں ایتھنز میں ایک عوامی اسمبلی قائم کی گئی تھی، جس میں آزاد مرد شہری شریک ہوتے تھے اور وہ ریاستی امور سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔ جمہوریت دو یونانی الفاظ ڈیموس (Demos) یعنی عوام اور کریٹوس (Kratos) یعنی اقتدار سے مل کر بنی ہے، جس کا مفہوم ہے ’’عوام کی حکومت‘‘۔ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اور اس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ 1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے بڑا چیلنج ایک مستحکم اور مؤثر جمہوری نظام کا قیام تھا۔ ابتدائی برسوں میں سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو سکی۔ پاکستان نے اب تک تین آئین مرتب کیے: 1956ء، 1962ء اور 1973ء۔ ان میں سے 1973ء کا آئین آج بھی نافذ العمل ہے، جو پاکستان کو ایک وفاقی، پارلیمانی اور جمہوری ریاست قرار دیتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک وطن ِ عزیز کو متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے، جن میں بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، اداروں کے درمیان عدم توازن، تعلیم کی کمی، معاشی مشکلات، غربت، مہنگائی، مذہبی و نسلی اختلافات، انتخابی عمل پر عدم اعتماد، اور قانون کی کمزور حکمرانی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل پاکستان کی جمہوریت کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل ہیں۔ جب ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام کی توجہ جمہوری اقدار کے بجائے بنیادی ضروریات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیم کی کمی بھی جمہوریت کو نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ باشعور اور تعلیم یافتہ عوام ہی جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ مذہبی اور نسلی اختلافات بھی جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں، جن کا فائدہ بعض اوقات مفاد پرست عناصر اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا شخصیات کے گرد گھومنا اور واضح نظریات و پالیسیوں کا فقدان بھی جمہوریت کو کمزور کرتا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہیں۔ میڈیا جمہوریت میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ عوام کو باخبر رکھنے اور حکومتی اقدامات پر نظر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم پاکستان میں میڈیا کو بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے، جن میں آزادیٔ اظہار پر قدغنیں، دباؤ اور سنسر شپ شامل ہیں، جو اس کے مؤثر کردار میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو حکمران طبقے کو قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد یعنی انصاف، مساوات اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ معیاری تعلیم کو عام کرے، اداروں کو مضبوط بنائے، شفاف احتسابی نظام قائم کرے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ واضح منشور اور پالیسیاں پیش کریں اور ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ میڈیا کو غیر جانبداری، ذمے داری اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس ضمن میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اس لیے انہیں سیاسی شعور، سماجی ذمے داری اور مثبت کردار کے ذریعے پاکستان کی جمہوریت اور ترقی میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ اگر ہم سب مل کر اپنی ذمے داریاں نبھائیں تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور حقیقی جمہوری ریاست بن سکتا ہے۔ اگر ہم نے وطن عزیز میں صحیح معنوں میں جمہوری عمل کو فروغ دینا ہے تو اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پیغام کو پیش نظر رکھنا ہوگا
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!
ہمارے پالیسی ساز ادارے اگر اقبال کے اس پیغام کو ہی مشعل راہ بنا کر ہمارے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کردیں تو ہمارے بہت سارے بنیادی مسائل ختم کیے جاسکتے ہیں۔ متناسب نمائندگی کے تحت الیکشن کا انعقاد بہت سارے فوائد کا حامل بن سکتا ہے۔ بس اگر ضرورت ہے تو اس پر صدق دل سے عمل درآمد کرنے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جمہوری نظام بھی جمہوری
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔