Jasarat News:
2026-07-24@13:41:09 GMT

جمہوریت اور پاکستان: چیلنجز اور راہِ حل

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں حکومت کا انتخاب عوام کی رائے اور ووٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کا آغاز قدیم یونان میں تقریباً پانچویں صدی قبل مسیح میں ہوا، جب ایتھنز کے شہریوں نے اپنے شہر کو ایک جمہوری نظام کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس دور میں ایتھنز میں ایک عوامی اسمبلی قائم کی گئی تھی، جس میں آزاد مرد شہری شریک ہوتے تھے اور وہ ریاستی امور سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔ جمہوریت دو یونانی الفاظ ڈیموس (Demos) یعنی عوام اور کریٹوس (Kratos) یعنی اقتدار سے مل کر بنی ہے، جس کا مفہوم ہے ’’عوام کی حکومت‘‘۔ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اور اس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ 1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے بڑا چیلنج ایک مستحکم اور مؤثر جمہوری نظام کا قیام تھا۔ ابتدائی برسوں میں سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو سکی۔ پاکستان نے اب تک تین آئین مرتب کیے: 1956ء، 1962ء اور 1973ء۔ ان میں سے 1973ء کا آئین آج بھی نافذ العمل ہے، جو پاکستان کو ایک وفاقی، پارلیمانی اور جمہوری ریاست قرار دیتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک وطن ِ عزیز کو متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے، جن میں بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، اداروں کے درمیان عدم توازن، تعلیم کی کمی، معاشی مشکلات، غربت، مہنگائی، مذہبی و نسلی اختلافات، انتخابی عمل پر عدم اعتماد، اور قانون کی کمزور حکمرانی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل پاکستان کی جمہوریت کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل ہیں۔ جب ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام کی توجہ جمہوری اقدار کے بجائے بنیادی ضروریات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیم کی کمی بھی جمہوریت کو نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ باشعور اور تعلیم یافتہ عوام ہی جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ مذہبی اور نسلی اختلافات بھی جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں، جن کا فائدہ بعض اوقات مفاد پرست عناصر اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا شخصیات کے گرد گھومنا اور واضح نظریات و پالیسیوں کا فقدان بھی جمہوریت کو کمزور کرتا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہیں۔ میڈیا جمہوریت میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ عوام کو باخبر رکھنے اور حکومتی اقدامات پر نظر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم پاکستان میں میڈیا کو بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے، جن میں آزادیٔ اظہار پر قدغنیں، دباؤ اور سنسر شپ شامل ہیں، جو اس کے مؤثر کردار میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو حکمران طبقے کو قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد یعنی انصاف، مساوات اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ معیاری تعلیم کو عام کرے، اداروں کو مضبوط بنائے، شفاف احتسابی نظام قائم کرے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ واضح منشور اور پالیسیاں پیش کریں اور ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ میڈیا کو غیر جانبداری، ذمے داری اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس ضمن میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اس لیے انہیں سیاسی شعور، سماجی ذمے داری اور مثبت کردار کے ذریعے پاکستان کی جمہوریت اور ترقی میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ اگر ہم سب مل کر اپنی ذمے داریاں نبھائیں تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور حقیقی جمہوری ریاست بن سکتا ہے۔ اگر ہم نے وطن عزیز میں صحیح معنوں میں جمہوری عمل کو فروغ دینا ہے تو اس حوالے سے اسلامی تعلیمات اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پیغام کو پیش نظر رکھنا ہوگا

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!

ہمارے پالیسی ساز ادارے اگر اقبال کے اس پیغام کو ہی مشعل راہ بنا کر ہمارے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کردیں تو ہمارے بہت سارے بنیادی مسائل ختم کیے جاسکتے ہیں۔ متناسب نمائندگی کے تحت الیکشن کا انعقاد بہت سارے فوائد کا حامل بن سکتا ہے۔ بس اگر ضرورت ہے تو اس پر صدق دل سے عمل درآمد کرنے کی۔

ادب حسین گولاٹو سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جمہوری نظام بھی جمہوری

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت