اسلام آباد جیل 2 ماہ میں مکمل ہونے پر بانی پی ٹی آئی کو منتقل کر دینگے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد جیل دو ماہ میں فعال ہوجائے گی۔ اسلام آباد کے مقدمات کے تمام ملزموں اور مجرموں کو وہاں منتقل کریں گے۔ جو بھی غیر قانونی افغانی پاکستان میں موجود ہے اسے ہر صورت واپس بھجوایا جائے گا۔ دھرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد صورتحال کے مطابق نمٹیں گے۔ اسلام آباد کے ریسکیو اور ایمرجنسی سروس کو مکمل خودمختار اور جدید ادارہ بنانے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد پولیس لائن میں سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹس فورس (ایس ڈبلیو اے ٹی) کی پاسنگ آئوٹ سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ آئی جی اسلام آباد ناصر علی رضوی سمیت پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد ایمرجنسی سروس کو ایک الگ ادارہ بنا رہے ہیں۔ اس سٹیٹ آف دی آرٹ ادارے کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی دھرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے دیں اس کے بعد اگر کسی نے دھرنا دیا تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹیں گے، آئی جی اسلام آباد اور ان کی ٹیم مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد راولپنڈی سمیت کہیں بھی غیر قانونی افغانی کی موجودگی کی اطلاع ملی تو انہیں فوری طور پر واپس بھجوایا جائے گا۔ انہوں نے کہا جب سے اسلام آباد پولیس کا وجود عمل میں آیا ہے اس وقت سے ان کے پاس ایلیٹ طرز کی فورس نہیں تھی۔ پاک فوج کے ٹرینٹرز نے دن رات ایک کر کے چھ ماہ کی تربیت کا یہ عمل تین ماہ میں مکمل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل پولیس اکیڈمی اور پو لیس ٹریننگ سکول کو بھی اپ گریڈ کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹس فورس، حالیہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لئے ناگزیر تھی، اب اس فورس کا پہلا دستہ پاس آئوٹ ہونے کے بعد فیلڈ میں آجائے گا۔ دریں اثناء وزارت داخلہ میں محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی پر مشاورت کی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے آئی جیز نے بھی شرکت کی۔ علاوہ ازیں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ایکس پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری جان مارک پومر شائم اور ناظم الامور نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں امریکی عہدیداروں نے انسداد دہشتگردی اور مشترکہ سکیورٹی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے پاکستانی اقدامات کو سراہا۔ امریکی عہدیداروں نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا، پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا اسلام ا باد محسن نقوی
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز