حماس کی غزہ امن فورس بھیجنے والے ممالک کیلئے شرائط
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
غزہ بورڈ آف پیس کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے پہلے حماس کا اہم اقدام سامنے آیا ہے۔
بورڈ آف پیس کے اجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت، حماس اور مستقل جنگ بندی پر بات ہو گی جبکہ اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی امن فورس سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حماس نے غزہ امن فورس بھیجنے والے ممالک کے لیے شرائط واضح کر دی ہیں۔
حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امن فورس سرحد پر رہے اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سیکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرے، غزہ میں عالمی فورس پر اعتراض نہیں اگر وہ فریقوں کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر ہو۔
حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے کہا ہے کہ فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے، عالمی اہلکاروں نے مداخلت کی تو فلسطینی انہیں قابضین کا متبادل تصور کریں گے۔
حماس کا مؤقف ہے کہ عالمی فورس کا کردار فریقوں کو الگ رکھنا اور جنگ بندی قائم رکھنا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا نے غزہ امن فورس کے لیے 8 ہزار اہلکار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امن فورس
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔