کمانڈر ایف سی این اے کا دیامر کا دورہ، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کمانڈر نے واضح کیا کہ بوشیداس واقعے میں ملوث دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کمانڈر ایف سی این اے نے دیامر کا دورہ کیا اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران کمانڈر ایف سی این اے نے تانگیر کا فضائی جائزہ لیا اور بوشیداس ایف ڈبلیو او کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کمانڈر نے حالیہ دہشت گردی کے بزدلانہ واقعے میں شہید ہونے والے اہلکار کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں کمانڈر نے اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کی جس میں دیامر اور کوہستان کے انتظامی امور اور سیکیورٹی اداروں کے اعلی حکام نے خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر جامع بریفنگ دی۔ اس موقع پر کمانڈر نے واضح کیا کہ بوشیداس واقعے میں ملوث دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جو بھی دہشت گرد علاقے کے امن اور اہم ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں سخت اور فیصلہ کن انجام تک پہنچایا جائے گا۔ آخر میں کمانڈر ایف سی این اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے، پائیدار قیامِ امن اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کمانڈر ایف سی این اے جائے گا
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔